حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 57
اچھی طرح بنایا جائے۔شاید تحصیلدار صاحب موصوف الذکر نے اپنی طرف سے کچھ امداد بھی کی شہید مرحوم کے شاگردوں نے اپنی جگہ قبرسید گاہ میں بنوائی۔کچھ عرصہ کے بعد جب وہ لوگوں میں مشہور ہوئی اور لوگ دور دور سے زیارت کے لئے آنے شروع ہوئے تب بادشاہ کی طرف رپورٹ ہوئی کہ اس آدمی کی لاش جس کو سنگسار کیا تھا یہاں پر لائی گئی ہے اور اس پر ایک بڑی قبر تیار ہوئی ہے لوگ بڑی بڑی دور سے دیکھنے اور زیارت کے لئے آتے ہیں اور چڑھاوے چڑھتے ہیں۔تب امیر نصر اللہ خان نے جو بادشاہ کا بھائی تھا خوست کے گورنر کو حکم دیا کہ شہید مرحوم کی لاش کو نکال کر آگ یا دریا میں ڈال دیا جاوے اور ان کی لاش نکالنے والے کو سزادی جاوے۔جب گورنرخوست کو حکم پہنچا تو اس نے سرکاری آدمی بھیج کر شہید مرحوم کی لاش کی ہڈیاں نکال کر لے گئے بعض کہتے ہیں کہ ہڈیاں دریا میں ڈالی گئیں۔بعض کہتے ہیں کہ کسی مقبرہ میں دفن کر دی گئی ہیں۔اس لاش کے نکالنے والے کا نام بتایا جا چکا ہے کہ میر تھا۔اس کا کالا منہ کر کے اور گدھے پر چڑھا کر تمام گاؤں میں پھرایا اور لوگ کہتے گئے کہ یہ وہ شخص ہے جس نے اس کا فر کی لاش کو جس کو سنگسار کیا گیا تھا نکالا ہے۔دیکھو اس کی کیا سزا ہے۔خیر خدا تعالیٰ نے شہید مرحوم کی قبر کو شرک کی ملونی سے پاک رکھا۔اللہ تعالیٰ ان پر بڑے بڑے فضل و کرم کرے اور ہمیشہ ان کو اپنے عرش کے سایہ میں رکھے۔آمین ثم آمین۔57