حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 18
اس مجمع میں موجود تھے اور مجمع کثیر تھا۔شہید مرحوم ہر ایک فہمائش کا زور سے انکار کرتا تھا اور وہ اپنے لئے فیصلہ کر چکا تھا۔کہ ضرور ہے کہ میں اس راہ میں جان دوں تب اس نے یہ بھی کہا کہ میں بعد قتل چھ روز تک پھر زندہ ہو جاؤں گا۔یہ راقم کہتا ہے کہ یہ قول وحی کی بناء پر ہوگا جو اس وقت ہوئی ہوگی۔کیونکہ اس وقت شہید مرحوم منقطعین میں داخل ہو چکا تھا اور فرشتے اس سے مصافحہ کرتے تھے۔تب فرشتوں سے یہ خبر پا کر ایسا اس نے کہا۔اور اس قول کے یہ معنے تھے کہ وہ زندگی جو اولیاء اور ابدال کو دی جاتی ہے۔چھ روز تک مجھے مل جائے گی۔اور قبل اس کے جو خدا کا دن آوے یعنی ساتویں دن میں زندہ ہو جاؤں گا اور یادر ہے کہ اولیاء اللہ اور وہ خاص لوگ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں۔وہ چند دنوں کے بعد پھر زندہ کئے جاتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا بل احياء یعنی تم ان کو مردے مت خیال کرو جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں وہ تو زندے ہیں۔پس شہید مرحوم کا اسی مقام کی طرف اشارہ تھا۔اور میں نے ایک کشفی نظر میں دیکھا۔کہ ایک درخت سرو کی ایک بڑی لمبی شاخ۔۔۔جونہایت خوبصورت اور سرسبز تھی ہمارے باغ میں سے کائی گئی ہے اور وہ ایک شخص کے ہاتھ میں ہے تو کسی نے کہا کہ اس شاخ کو اس زمین میں جو میرے مکان کے قریب ہے اس بیری کے پاس لگا دو جو اس سے پہلے کاٹی گئی تھی اور پھر دوبارہ اُگے گی اور ساتھ ہی مجھے یہ وحی ہوئی کہ کابل سے کاٹا گیا اور سیدھا ہماری طرف آیا۔اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ تخم کی طرح شہید مرحوم کا خون زمین پر پڑا ہے۔اور وہ بہت بارور ہو کر ہماری جماعت کو بڑھا دیگا۔اس طرف میں نے یہ خواب دیکھی اور اس طرف شہید مرحوم نے کہا کہ چھ روز تک میں زندہ کیا جاؤں گا۔میری خواب اور شہید مرحوم کے اس قول کا مال ایک ہی ہے۔شہید مرحوم نے مرکز میری جماعت کو ایک نمونہ دیا ہے۔اور درحقیقت میری جماعت ایک بڑے نمونہ کی محتاج تھی۔اب تک ان میں ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ جو شخص ان میں سے ادنی خدمت بجالاتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ اس نے بڑا کام کیا ہے اور قریب ہے کہ وہ 18