حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 19
میرے پر احسان رکھے۔حالانکہ خدا کا اس پر احسان ہے کہ اس خدمت کے لئے اس نے اس کو تو فیق دی۔بعض ایسے ہیں کہ پورے زور اور پورے صدق سے اس طرف نہیں آئے اور جس قوت ایمان اور انتہاء درجہ کے صدق وصفا کا وہ دعوی کرتے ہیں آخر تک اس پر قائم نہیں رہ سکتے۔اور دنیا کی محبت کے لئے دین کو کھو دیتے ہیں اور کسی ادنی امتحان کی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔خدا کے سلسلے میں بھی داخل ہو کر ان کی دنیا داری کم نہیں ہوتی۔لیکن خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے۔کہ ایسے بھی ہیں کہ وہ سچے دل سے ایمان لائے اور سچے دل سے اس طرف کو اختیار کیا۔اور اس راہ کے لئے ہر ایک دُکھ اُٹھانے کے لئے تیار ہیں۔لیکن جس نمونہ کو اس جوانمرد نے ظاہر کر دیا۔اب تک وہ قوتیں اس جماعت کی مخفی ہیں۔خدا سب کو وہ ایمان سکھا دے اور وہ استقامت بخشے جس کا اس شہید مرحوم نے نمونہ پیش کیا ہے۔یہ دنیوی زندگی جو شیطانی حملوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔کامل انسان بننے سے روکتی ہے۔اور اس سلسلہ میں بہت داخل ہوں گے۔مگر افسوس کہ تھوڑے ہیں کہ یہ نمونہ دکھا ئیں گے۔پھر ہم اصل واقعہ کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ جب شہید مرحوم نے ہر ایک مرتبہ تو بہ کرنے کی فہمائش پر تو بہ کرنے سے انکار کیا تو امیر نے ان سے مایوس ہو کر اپنے ہاتھ سے ایک لمبا چوڑا کا غذ لکھا اور اس میں مولویوں کا فتویٰ درج کیا اور اس میں یہ لکھا کہ ایسے کافر کی سنگسار کرنا سزا ہے۔تب وہ فتویٰ اخوند زادہ مرحوم کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔اور پھر امیر نے حکم دیا کہ شہید مرحوم کے ناک میں چھید کر کے اس میں رسی ڈال دی جائے۔اور اسی رہتی سے شہید مرحوم کو کھینچ کر مقتل یعنی سنگسار کرنے کی جگہ تک پہنچایا جائے چنانچہ اس ظالم امیر کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا۔اور ناک کو چھید کر سخت عذاب کے ساتھ اس میں رسی ڈالی گئی۔تب اس ریتی کے ذریعہ سے شہید مرحوم کو نہایت ٹھٹھے بنسی اور گالیوں اور لعنت کے ساتھ مقتل تک لے گئے۔اور امیر اپنے تمام مصاحبوں کے ساتھ اور مع قاضیوں مفتیوں اور دیگر اہلکاروں کے یہ دردناک نظارہ دیکھتا ہوا مقتل تک پہنچا۔اور شہر کی ہزار ہا مخلوق جن کا شمار کرنامشکل ہے۔اس 19