حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 17 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 17

معزز لوگوں کی شہادت سے تقویٰ اور طہارت کے پاک پیرایہ سے مزین تھا۔اس طرح بے رحمی سے محض اختلاف مذہب کی وجہ سے مارا گیا۔اس امیر سے وہ گورنر ہزار ہا درجہ اچھا تھا جس نے ایک مخبری پر حضرت مسیح کو گرفتار کر لیا تھا یعنی پیلاطوس جس کا آج تک انجیلوں میں ذکر موجود ہے۔کیونکہ اس نے یہودیوں کے مولویوں کو جبکہ انہوں نے حضرت مسیح پر کفر کا فتویٰ لکھ کر یہ درخواست کی کہ اس کو صلیب دی جائے یہ جواب دیا کہ۔اس شخص کا میں کوئی گناہ نہیں دیکھتا افسوس اس امیر کو کم سے کم اپنے مولویوں سے یہ تو پوچھنا چاہئے تھا کہ یہ سنگساری کا فتویٰ کس قسم کے کفر پر دیا گیا ہے۔اور اس اختلاف کو کیوں کفر میں داخل کیا گیا۔اور کیوں انہیں یہ نہ کہا گیا کہ تمہارے فرقوں میں خود اختلاف بہت ہے۔کیا ایک فرقہ کو چھوڑ کر دوسروں کو سنگسار کرنا چاہئے۔جس امیر کا یہ طریق اور یہ عمل ہے۔نہ معلوم وہ خدا کو کیا جواب دیگا۔بعد اس کے کہ کفر کا فتویٰ لگا کر شہید مرحوم قید خانہ میں بھیجا گیا۔صبح روز دوشنبہ کو شہید موصوف کو سلام خانه یعنی خاص مکان در بار امیر صاحب میں بلایا گیا۔اس وقت بھی بڑا مجمع تھا۔امیر صاحب جب ارک یعنی قلعہ سے نکلے تو راستہ میں شہید مرحوم ایک جگہ بیٹھے تھے ان کے پاس ہو کر گزرے اور پوچھا کہ اخوند زادہ صاحب کیا فیصلہ ہوا۔شہید مرحوم کچھ نہ بولے۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان لوگوں نے ظلم پر کمر باندھی ہے۔مگر سپاہیوں میں سے کسی نے کہا کہ ملامت ہو گیا۔یعنی کفر کا فتویٰ لگ گیا۔پھر امیر صاحب جب اپنے اجلاس پر آئے تو اجلاس میں بیٹھتے ہی پہلے اخوندزادہ صاحب مرحوم کو بلایا۔اور کہا کہ آپ پر کفر کا فتویٰ لگ گیا ہے۔اب کہو کہ کیا تو بہ کرو گے۔یا سزا پاؤ گے تو انہوں نے صاف لفظوں میں انکار کیا۔اور کہا کہ میں حق سے تو بہ نہیں کر سکتا۔کیا میں جان کے خوف سے باطل کو مان لوں۔یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔تب امیر نے دوبارہ تو بہ کے لئے کہا اور توبہ کی حالت میں بہت امید دی اور وعدہ معافی دیا۔مگر شہید مرحوم نے بڑے زور سے انکار کیا۔اور کہا کہ مجھ سے یہ امید مت رکھو کہ میں سچائی سے تو بہ کروں۔ان باتوں کو بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ سنی سنائی باتیں نہیں بلکہ ہم خود 17