حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی ؓ

by Other Authors

Page 3 of 13

حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی ؓ — Page 3

3 2 بچوں کو مختلف تہواروں یعنی عیدین وغیرہ پر والدین اور دوسرے رشتہ دار کچھ رقم تحفہ کے طور پر دیا کرتے ہیں۔آپ کا ایک واقعہ ہے کہ آپ نے ایسے ہی موقعوں کے کوئی دس بارہ روپے جمع کئے ہوئے تھے اور ان کو بڑی احتیاط سے رکھا ہوا سے رہی۔اگر چہ ایک حد تک دو کا نداری بعد شادی کے ضروری امر ہو گیا مگر میں اس کے واسطے کچھ نہیں کرتا تھا۔میری بیوی اس وقت کبھی میرے پاس رہتی تھی کبھی میکے میں گزارتی تھی اکثر عادت ایسی تھی کہ ایک ہفتہ یہاں اور ایک ہفتہ وہاں ان کا تھا۔آپ کے گھر ایک خراسانی بزرگ آیا کرتے تھے۔ایک روز جب وہ آئے تو گھر گزرتا تھا۔مگر میری یہ حالت رہتی تھی کہ جب وہ میکے میں ہوتی تھیں میں بڑا خوش والوں نے حسب معمول ان کو کھانا وغیرہ کھلایا۔اس دوران آپ نے ان بزرگ کے حالات سے اندازہ لگایا کہ آج ان کو رقم کی سخت ضرورت ہے۔چنانچہ آپ نے اپنی وہ جمع شدہ رقم لا کر ان کی خدمت میں پیش کر دی۔جو انہوں نے بڑی محبت سے قبول کر لی۔رہتا تھا۔چونکہ کمرہ خالی ہوتا تھا اور میں مصلے پر ہی صبح کرتا تھا۔اس لئے مجھے اس تنہائی میں ایک خاص لطف معلوم ہوتا تھا۔میرے سسرال کو چند روز کیلئے سفر در پیش آیا اور انہوں نے میری بیوی کو ساتھ لے جانا چاہا اور میرے والدین سے اس امر کی درخواست کی اور ان کو یہ بات نا پسند تھی مگر میری یہ خواہش تھی کہ اگر یہ اجازت دے یہ رقم چونکہ خالصتاً آپ کی اپنی تھی اور گھر والوں کو بھی اس کا علم نہ تھا اس دیں تو مجھے ایک عرصہ تک تنہائی میسر رہے گی۔غرض ایسا ہی ہوا اور مجھے تنہائی میسر ہوگئی اور میں اس تنہائی میں اپنے شکل میں لگا رہتا تھا اور کچھ کچھ باطنی صفائی بھی مجھے محسوس ہوتی اور اچھے اچھے خواب بھی آتے تھے اور میں وہ دن بڑی خوشی اور ذوق کے ساتھ گزارتا تھا۔“ لئے آپ کی یہ خدمت اس چھوٹی سی عمر میں محض اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے تھی۔اس عمر میں آپ کے لائق حال یہ شعر ہے۔ابھی عمر سے تھوڑے گزرے تھے سال کہ دل میں پڑا اس کے دیں کا خیال محبت الہی (ضمیمہ آپ بیتی مکتوبات احمد یہ جلد نمبر 5 حصہ اول بار اول صفحہ 42) والد صاحب کی وفات اور آپ کی ذمہ داریاں آپ کی عمر کوئی پندرہ ، سولہ سال کی تھی کہ آپ کے والد صاحب نے حج آپ کو بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف میلان اور عشق تھا۔آپ کی شادی کا ارادہ کیا۔چنانچہ انہوں اپنے دونوں بڑے بیٹوں حضرت سیٹھ عبدالرحمان چودہ سال کی عمر میں ہوگئی تھی مگر آپ کا جھکاؤ اپنے اللہ کی طرف ہی رہتا تھا۔آپ صاحب اور ذکریا صاحب کو گھر بنگلور میں چھوڑا اور باقی تمام خاندان کو لے کر اپنی اس کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” بعد شادی کے بھی مجھے زیادہ انس (بیت الذکر ) اور اچھے لوگوں کی صحبت حج بیت اللہ کے لئے روانہ ہو گئے۔اس وقت آپ کے دو چچازاد بھائی بھی جو عمر میں آپ سے بڑے اور زیادہ