حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی ؓ

by Other Authors

Page 4 of 13

حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی ؓ — Page 4

5 4 تجربہ کار تھے پیچھے چھوڑے گئے۔آپ کے چازاد بھائی نے ذکریا صاحب کو جو آب کے چھوٹے بھائی تھے مدراس والی دوکان پر کاروبار کرنے کے لئے روانہ کر دیا۔دوسرے چچازاد بھائی کو بھی مدراس اپنی دکان پر روانہ کر دیا اور بنگلور کی بڑی دکان پر حضرت سیٹھ عبد الرحمان کو تجویز کیا اور خود بھی جلد ہی مدراس چلے گئے۔حضرت سیٹھ صاحب نہ تو کاروباری امور کو جانتے تھے نہ ہی کوئی تجربہ تھا۔اب اکیلے کا روبار کو سنبھالنا پڑا۔مگر آپ نے دعا اور محنت کے ساتھ جلد ہی اس تمام کاروبار کو سنبھال لیا اور آپ کا شمار وہاں کے بڑے بڑے تاجروں میں ہونے لگا۔اللہ تعالیٰ کے بھی اپنے بندوں کے امتحان کے اپنے انداز ہیں۔آپ کے والد صاحب جو کہ حج کو گئے ہوئے تھے۔حج کے بعد دوسرے یا تیسرے روز فوت یہاں مجھے گویا قیامت کا سامنا ہو گیا۔ہزاروں کا لین دین اور کچھ بھی ندارد۔مگر کیا ہوسکتا تھا بجز اس کے کہ قہر درویش بر جاں درویش۔کبھی تو گھبرا کر رو پڑتا تھا اور کبھی دفتروں کو پاس رکھ کر ساری ساری رات غور کیا کرتا تھا۔“ (مکتوبات احمد یہ جلد 5 حصہ اول صفحہ 43 ) اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ جلد ہی ان تمام امور پر حاوی ہو گئے اور معاملہ کو اچھی طرح سنبھال لیا۔عزیز بچو! انسان جب بھی مشکل میں ہو تو اللہ سے دعا اور محنت کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ اس مشکل سے نجات دے دیتا ہے۔خاص خوبی حضرت سیٹھ صاحب کی ابتدائے عمر سے اخیر عمر تک یہ خوبی قائم رہی کہ کسی ہو گئے۔اس وجہ سے آپ کو شدید رنج پہنچا۔آپ اپنے گھر میں سب سے بڑے کو آپ تکلیف نہ پہنچاتے تھے اور کسی کو تکلیف دینا آپ خطرناک امر سمجھا کرتے تھے۔تمام ذمہ داری آپ پر آن پڑی۔دوسری طرف تمام کام شر کاء کے ساتھ چل رہا تھا۔والد صاحب کی وفات کے بعد آپ کے بھائی ذکریا بنگلور واپس آگئے اور حضرت سیٹھ صاحب کو مدراس جاکر کاروبار سنبھالنا پڑا۔وہاں پر آپ کے بڑے چازاد بھائی بھی تھے مگر وہ آپ کے وہاں پہنچنے کے دوتین روز بعد مدراس سے واپس آگئے اور آپ کو نہایت مشکل سے دو چار ہونا پڑا کیونکہ وہاں پر آپ بالکل اکیلے تھے۔نہ واقفیت، نہ شناسائی، نہ وہاں کے کاروبار کا انداز ہ۔آپ اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔تھے۔آپ ہمیشہ دوسروں کا خیال رکھتے تھے۔امام زمانہ حضرت مسیح موعود کی تحریر کا اثر آپ کی ان خوبیوں پر ہی اللہ کی نظر تھی کہ آپ کو اس زمانہ کے امام کو قبول کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔آپ اپنے دور کے لوگوں اور خاص طور پر مسلمانوں کی خراب حالت پر بہت غمگین رہا کرتے تھے اور ہر طبقہ میں اخلاقی اور روحانی کمزوریاں آپ کو بے چین کر دیا کرتی تھیں اور آپ مصلح کی تلاش میں تھے۔گویا آپ کا دل یہ کہتا تھا کہ