حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی ؓ — Page 2
1 پیش لفظ پیارے بچو! اللہ تعالیٰ جب اپنے نبی کی بعثت فرماتا ہے تو اس کی شہرت دور دراز علاقوں میں پہنچ جاتی ہے۔نتیجہ شریف النفس اور نیک لوگ زمانے کے امام کو مان کر اپنی دنیا و عاقبت سنوار لیتے ہیں۔حضرت سیٹھ عبد الرحمن صاحب جو مدراس کے رہنے والے تھے ایسے ہی ایک خوش نصیب انسان تھے۔آپ حضور کی ایک تحریر پڑھ کر آپ پر ایمان لائے۔پھر خلافت احمدیہ کے بچے اطاعت گزار رہے۔خود بھی بے مثال خدمت کی اور ہمارے لئے بھی قابل تقلید نمونہ چھوڑ گئے۔خاندانی تعارف آپ کا پورا نام سیٹھ عبد الرحمان صاحب حاجی اللہ رکھا مدراسی تھا۔حضرت سیٹھ صاحب کا خاندان مشہور میمن امیر خاندان تھا جو بنگلور میں آباد تھا اور تجارت پیشہ تھا۔بنگلور ہندوستان کا ایک مشہور شہر ہے۔یہ شہر مشہور مسلمان بادشاہ ٹیپوسلطان کی ریاست میسور میں واقع ہے اور جنوبی ہند کا تجارتی مرکز ہے۔والد صاحب کی وفات کے بعد آپ کا روبار کے سلسلہ میں مدر اس گئے اور آپ کے کاروبار نے خوب ترقی کی اور اسی شہر کی طرف آپ منسوب ہونے لگے اس طرح مدراسی“ آپ کے نام کا حصہ بن گیا۔مدراس جنوبی بھارت کا سب سے بڑا شہر ، اہم بندرگاہ اور صوبہ تامل ناڈو کا دار الحکومت ہے۔یہ خلیج بنگال کے کنارے واقع بھارت کا تیسرا بڑا شہر ہے اور صنعتی ترقی میں خاص شہرت رکھتا ہے۔بچپن اور انفاق فی سبیل اللہ آپ بچپن سے ہی بڑے نیک فطرت اور خدا ترس تھے اور نیک لوگوں کے ساتھ ہی آپ کی مجلس رہا کرتی تھی۔اس میں دراصل آپ کے گھرانے کا بھی عمل دخل تھا کیونکہ نیک لوگ اکثر ان کے گھر آتے جاتے تھے اور انکی خوب خاطر مدارات کی جاتی تھیں اور یہ بات آپ کے والدین کو بہت عزیز تھی۔