حضرت سلمان فارسی ؓ

by Other Authors

Page 12 of 14

حضرت سلمان فارسی ؓ — Page 12

22 21 خادم ہی تھا اور مجھے لوگوں کے کام آکر اُن کی مددکر کے مزہ آتا تھا اسی سادگی اور بے تکلفی کی وجہ سے ایک روز ایک عجیب واقعہ بھی پیش آیا۔ہوا یوں کہ ایک شخص جو اجنبی تھا اور کسی دوسرے علاقے سے مدائن آیا تھا اُسے اپنا سامان اٹھانے کیلئے کسی مزدور کی ضرورت پیش آئی۔میں اس وقت وہاں سے گزر رہا تھا اس اجنبی نے میرے سادہ حلیہ کو دیکھ کر مجھے مزدور گمان کیا اور کہا کہ میرا یہ سامان اٹھا کر فلاں جگہ تک پہنچا دو۔میں نے بھی اسے نہ بتایا کہ میں یہاں کا گورنر ہوں اور چپ چاپ اس کا سامان اٹھا کر اسکے ساتھ چل دیا۔شہر کے لوگوں نے جب یہ حال دیکھا تو اس شخص کو اصلیت بتائی اور معذرت کرنے کو کہا۔وہ اجنبی تو بہت ہی زیادہ پریشان ہوا اور مجھے سے معذرت کرنے لگا کہ میں نے ناحق آپ کو تکلیف دی۔لیکن میں نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بات نہیں اب تو میں تمہارا سامان منزل تک پہنچا کر ہی واپس آؤں گا۔چنانچہ اسکے لاکھ اصرار کے باوجود میں نے ایسا ہی کیا۔لوگ اس بات پر بہت تعجب کرتے تھے لیکن میری نظر میں یہ کوئی ایسی غیر معمولی بات نہیں تھی۔حضرت عمرؓ کے دور خلافت کے آخری سالوں میں مجھے شادی کرنے کا خیال پیدا ہوا اور یہ احساس ہوا کہ تنہائی کو دور کرنے کیلئے ایک ساتھی ہونا ضروری ہے۔چنانچہ میں نے بنی کندہ کے ایک گھرانے میں شادی کر لی۔میری بیوی کا نام بقیر ہ تھا اور اللہ کے فضل سے وہ ایک نیک اور معاملات کو سمجھنے والی خاتون تھیں۔میں جواب تک عائلی ذمہ داریوں سے آزاد تھا اب ان ذمہ داریوں کو بھی اٹھانے کیلئے کوشش کرنے لگا۔اس سے پہلے گھر بنانے کا خیال کبھی ذہن میں نہ آیا تھا لیکن اب میں نے ایک مختصر سا گھر بھی تیار کر لیا تا کہ اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کی جاسکے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہی ہوا۔گو میں جنگ بدر میں شامل نہ ہوا تھا لیکن حضرت عمرؓ نے رسول اللہ سے قریبی تعلق ہونے کی وجہ سے میرا وظیفہ بدری صحابہ کے برابر ہی مقر فر ما دیا تھا اور یوں زندگی اللہ کے فضل سے بہت اچھی گزر رہی تھی۔اب ماضی کے کٹھن حالات محض ایک خواب بن چکے تھے کہ کیسے میں ایران سے روانہ ہو کر سرزمین عرب تک پہنچا۔آزادی سے غلامی اور پھر اپنے آقا کے توسط سے غلامی سے واپس آزادی کا سفر گو کافی طویل تھا لیکن اب زندگی کے اس موڑ پر پہنچ کر یہ سب کچھ محض ایک یاد بن کر رہ گیا تھا۔ہر دکھ اور تکلیف دور ہو چکی تھی اور زندگی کامیاب اور مطمئن گزر رہی تھی۔" حضرت سلمان فارسی کی داستانِ حیات آپ نے سنی۔وہ عظیم شخص جس نے محض خدا تعالی پر بھروسہ اور توکل کرتے ہوئے ان راہوں کو پہنا جو بہت کٹھن اور مشکل راہیں تھیں۔اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر وہ سچے دین اور نبی صادق کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے راستے کی کسی مشکل نے ان کے عزم اور حوصلے کو کم نہ کیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس بچے جذبے کو ضائع نہیں ہونے دیا۔آپ نہ صرف رسول اللہ سے ملنے میں کامیاب ہوگئے بلکہ حضور ﷺ نے آپ کو کمال شفقت کرتے ہوئے اپنے اہل بیت میں سے قرار دیا۔اور صرف یہی نہیں