حضرت سلمان فارسی ؓ — Page 13
24 23 صلى الله بلکہ سورۃ الجمعہ کی تفسیر کرتے ہوئے حضور اکرم ﷺ نے آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ عظیم پیشگوئی فرمائی کہ "اگر ایمان ثریا ستارے پر بھی جا پہنچا تو اس ( سلمان فارسی) کی قوم کا ایک فردا سے واپس لے آئے گا۔" اور جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود کے وجود میں پوری ہوئی جو فارسی الاصل تھے اور آپ کا خاندان ایران سے ہجرت کر کے ہندوستان میں آباد ہوا تھا۔غرض حضرت سلمان فارسی گودیر سے مسلمان ہوئے اور ابتدائی طور پر بہت سے مشہور غزوات میں بھی شامل نہ ہو سکے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے اخلاص اور سچے جذبوں کو بہت پھل لگائے اور نمایاں خدمات کی توفیق عطا فرمائی۔حضرت عمرؓ نے آپ کو مدائن کا گورنر مقرر فرمایا اور یہیں پر آپ کی شادی بنو کندہ کے ایک گھرانے کی ایک معزز خاتون بقیرہ سے ہوگئی۔33 ہجری میں مواخات کے نتیجے میں آپ کے بھائی بننے والے عظیم صحابی رسول حضرت ابو درداء دمشق (شام) میں وفات پاگئے تو آپ اُن کی اہلیہ سے تعزیت کرنے کے لئے شام تشریف لے گئے۔آپ کی وفات 35 ہجری میں مدائن میں ہوئی۔حضرت سعد بن ابی وقاص نے نماز جنازہ پڑھائی اور مدائن میں ہی آپ کی تدفین ہوئی۔آپ کا مزار اب بھی وہاں موجود ہے اور اس علاقے کو "سلمان پاک" کہتے ہیں۔اس جگہ آنے والے زائرین دعا کیلئے آپ کے مزار پر ضرور جاتے ہیں۔آپ نے پسماندگان میں اپنی بیوی کے علاوہ تین بیٹیاں پیچھے چھوڑی تھیں۔ایک بیٹی اصفہان میں بیاہی گئی جبکہ باقی دو کی شادیاں مصر میں ہوئیں۔حضرت سلمان فارسی کا یہ اعزاز بہت بڑا تھا کہ آپ اہل فارس میں سے سب صلى الله سے پہلے مسلمان ہوئے اور آپ کی نیکی علم اور تقویٰ کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اور آپکے خلفاء حضرت سلمان سے بہت محبت اور شفقت کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔آپ کا وجود خدا تعالیٰ اور اسکے رسول سے محبت کی زندہ تصویر تھا۔یہ اللہ تعالٰی کی سچی محبت عشق اور اس سے ملنے کی تڑپ ہی تھی جس نے آپ کو گھر کے آرام دو ماحول سے نکل کر آبادیوں اور جنگلوں میں پھرنے پر مجبور کر دیا۔عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پُر خطر عشق ہے جو سر جھکا دے زیر تیغ آبدار آپ کی جستجو چونکہ بچی تھی اسلئے اللہ تعالی نے اس بچی طلب کو رائیگاں نہ جانے دیا اور آپ کو خود اُس نبی کے قدموں تک پہنچا دیا جوسب نبیوں کا سردار تھا۔اور یہاں بھی آپ نے ایسی کامل غلامی اختیار کی کہ غلامی کے درجے سے ترقی کرتے کرتے رسول اللہ کے اہل بیت میں شمار ہونے لگے۔سچ ہے کہ یہ محبت تو نصیب والوں کو ہی مل سکتی ہے اور یقیناً حضرت سلمان فارسی ایسے ہی اچھے نصیب والے وجود تھے۔