حضرت سلمان فارسی ؓ — Page 11
20 19 چنانچہ میری یہ عادت تھی کہ جب بھی کسی علاقے کی طرف پیش قدمی ہوتی تو اہل علاقہ کو پہلے اسلام کی عام تعلیمات سے آگاہ کر دیا تا کہ اگر وہ چاہیں تو دشمنی چھوڑ کر دوستی کا ہاتھ بڑھ سکیں۔چنانچہ حضرت عمر نے مجھے ان مہمات میں لشکر اسلامی میں داعی اور رائڈ کے عہدے عطا فرما دیئے۔بحیثیت داعی میرا کام کفار کو اسلام کی تعلیمات پہنچانا تھا جبکہ بحیثیت رائد میں فوج کے افراد اور جانوروں کیلئے کھانے پینے کا انتظام کرتا تھا اور عام طور پر ہر اول دستے میں شامل ہوتا تھا۔بحیثیت رائد میرا پہلا معرکہ "بویب " تھا جس میں ہم ایرانی لشکر کے خلاف مقابلے کیلئے نکلے تھے۔سخت مقابلے کے بعد بالآخر ایرانی فوج کو شکست ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح سے ہمکنار کیا۔اسکے بعد 14 ہجری میں مجھے جنگ قادسیہ میں بھی حصہ لینے کی توفیق حاصل ہوئی جس میں مسلمانوں کے تمہیں ہزار سپاہیوں کے مقابلے پر ایرانی ایک لاکھ بیس ہزار کی تعداد میں تھے۔حضرت سعد بن ابی وقاص اس جنگ میں مسلمانوں کے سپہ سالار تھے۔اللہ تعالیٰ نے باوجود مسلمانوں کی تعداد کم ہونے کے انہیں ایک بڑی طاقت کے مقابلے پر فتح عطا فرمائی اور ایران جیسی سپر پاور کو فیصلہ کن شکست ہوئی اور مسلمان لشکر مختلف علاقوں کو فتح کرتا ہوا بالآخر کسی ایرانی کے دارالحکومت مدائن تک جا پہنچا اور 16 ہجری میں مدائن بھی فتح ہو گیا۔ہم اللہ تعالیٰ کے ان فصلوں پر اس کا شکر بجالائے۔مدائن کی فتح کے ایک سال بعد تک ہی شہر عراق کا صوبائی دارالحکومت رہا لیکن یہاں کی آب و ہوا عرب مجاہدین کو زیادہ راس نہیں آرہی تھی اور وہ کمزور ہورہے تھے اسلئے حضرت عمرؓ کے حکم پر میں اور حذیفہ بن یمان کسی ایسی جگہ کی تلاش میں نکلے جس کی آب و ہوا مناسب ہو اور جانوروں کیلئے وافر چارہ موجود ہو۔چنانچہ ہم دونوں نے کافی تلاش اور جستجو کے بعد ایک مناسب جگہ کا انتخاب کیا اور وہاں پر اسلامی لشکر کی رہائش کیلئے ایک نیا شہر آباد کیا گیا جس کا نام " کوفہ " رکھا گیا۔میں اپنی صلاحیتوں اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کے مطابق خدمات سرانجام دے رہا تھا اور اپنے کاموں پر مطمئن تھا کہ خلیفہ وقت کی طرف سے مجھ پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی گئی ، حضرت عمر نے مجھے مدائن کا گورنر مقرر کر دیا۔گو یہ بہت بڑا کام تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے احسن رنگ میں یہ ذمہ داری نبھانے کی توفیق عطا کی۔میری یہ کوشش ہوتی تھی کہ ان خدمات کے بدلے میں جو بھی تنخواہ ملے وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دوں اور خود اپنے ہاتھ سے محنت کر کے روزی کماؤں۔چنانچہ باوجود گورنر ہونے کے میں بوریاں بن کر فروخت کرتا تھا اور اس کی کمائی سے اپنا گزارہ کرتا تھا۔حضرت عمر کو جب اس بارے میں پتہ چلا تو آپ نے از راہ ہمدردی مجھے حکماً اس کام سے روک دیا۔میں ایک سادہ مزاج اور عام سا آدمی تھا اسلئے گورنر بننے کے بعد بھی میں نے اپنا یہی انداز برقرار رکھا اور کبھی یہ خیال بھی ذہن میں نہ آنے دیا کہ میں لوگوں پر حاکم بنادیا گیا ہوں۔میں تو کل بھی ایک خادم تھا اور آج گورنر بننے کے بعد بھی ایک