حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 28 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 28

56 55 بچے میدانِ جنگ میں وہ حضرت اسماء خادم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 13 برس کی تھی جب میدانِ جنگ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔اور یہ ہی عمر حضرت ابو سعید خدری کی تھی جب ان کو ان کے والدین نے جنگ میں شریک ہونے کے لئے رسولِ خدا کی خدمت میں پیش کیا۔تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور فرمایا کہ بہت کمسن ہیں باپ نے ہاتھ پکڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھایا کہ پورے مرد کا ہاتھ ہے تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت نہ دی۔( بخاری باب غزوہ نبی مصطلق ، الفضل 31 اکتوبر 1977) لیکن اس سے یہ بات واضح ہے کہ صحابہ کرام دینی خدمات کو اس قدر ضروری اور قابل فخر سمجھتے تھے کہ اپنے بچوں کو اس کا موقع دلانے کے لیے نہایت حریص رہتے تھے اور ان کو آگے کرتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح سعادت حاصل ہو جائے۔ہمارے زمانہ میں جو لوگ نہ صرف خود پیچھے ہٹتے ہیں بلکہ اپنی اولاد کو بھی اپنے گھروں میں چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں۔انہیں سوچنا چاہیئے کہ اُن لوگوں کی اپنی اولادوں سے محبت ہم سے کم نہ تھی۔وہ بھی ہماری طرح انسان تھے۔اُن کے پہلو میں بھی دل تھے جو ہماری طرح پدری شفقت سے لبریز تھے۔مگر جوشِ ایمان اور خدمت اسلام ان کے نزدیک دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب تھی۔بچوں کا جذبہ جہاد فی سبیل اللہ اور شوق شہادت ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے انتہائی محبت و شفقت کا سلوک فرماتے وہاں بچے بھی آپ سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے تھے۔یہاں تک کہ وہ آپ کے لئے جان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے تھے اور فدا کاری کے جذبے سے سرشار ہوکر میدان جنگ میں شمولیت کے لئے درخواست کرتے اور اپنے آپ کو پیش کر دیتے۔ننھا مجاہد - ننھا شہید جنگ بدر کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔مسلمانوں کو مکہ کے کافروں کے پہلا موقعہ جہاد میسر آیا تھا۔اس لئے بڑے جوش و خروش سے تیاریاں ہو رہی تھیں۔خلاف سعد بن ابی وقاص کے چھوٹے بھائی امیر بہت کمسن تھے۔انہوں نے سُنا کہ حضور کمسن بچوں کو واپس کر رہے ہیں تو لشکر کے پیچھے چھپ گئے اور ڈر رہے تھے کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے۔دل میں خدا کی راہ میں شہید ہونے کی بڑی خواہش تھی۔جب انہیں تلاش کیا گیا اور واپسی کا حکم ملا تو بے تحاشا رونے اور چلانے لگے۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپ نے ننھے صحابی کو بادل نخواستہ اجازت دے دی۔چنانچہ اُن کے بڑے بھائی نے تیار کر دیا اور تلوار باندھی جو اس کمسن سپاہی سے بھی بڑی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس معصوم کی شدید آرزو کو قبول کرتے ہوئے اسے شہادت کا رتبہ عطا فرمایا۔اللہ اللہ کیا جاں شادی کا جذبہ تھا جو نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے آپ نے اللہ اور اس کے رسول پر اپنی جان قربان (فدایانِ رسول 105) کردی۔زار و قطار رونے لگے