حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 27
54 53 تھا۔دوسرے صحابہ نے کہا کہ ابھی بچے ہیں اس کام کے لئے موزوں نہیں۔کوئی ایسا ہو جس کا خاندان وسیع ہوتا کہ قریش حملہ نہ کر سکیں۔مگر عبداللہ نے کہا مجھے جانے دو میرا خدا حافظ ہے۔چنانچہ اگلے روز جب قریش کی مجلس لگی ہوئی تھی یہ شمع قرآنی کا دیوانہ وہاں جا پہنچا اور تلاوت قرآن کریم شروع کردی۔یہ دیکھ کر تمام مجمع مشتعل ہو گیا اور سب کے سب آپ پر ٹوٹ پڑے اور اس قدر مارا کہ چہرہ متورم ہو گیا۔لیکن پھر بھی آپ کی زبان بند نہ ہوئی اور تلاوت جاری رکھی۔اس سے فارغ ہو کر جب صحابہ میں واپس آئے تو آپ کی حالت نہایت خستہ ہو رہی تھی۔صحابہ نے کہا ہم اسی ڈر کی وجہ سے تمہیں جانے سے روکتے تھے۔مگر حضرت عبداللہ نے جواب دیا خدا کی قسم اگر کہو تو کل پھر جا کر اسی طرح کروں گا۔دشمن خُدا آج سے زیادہ مجھے کبھی ذلیل نظر نہیں آئے۔(اسد الغابہ تذکرہ عبداللہ بن مسعودؓ) بہادر بچے کی حکمت عملی ، ڈاکو بھاگ گئے ایک مسلمان بہادر بچے کا کارنامہ سنیے۔ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ چر رہے تھے۔کفار آئے اور چرواہے کو قتل کر کے اونٹ لے کر چل دئیے۔اتفاق سے ایک ننھے بچے سلمہ کی نظر پڑ گئی۔اونٹ پہچان لئے اور سمجھ گئے کہ یہ میرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ چرا کرلے جا رہے ہیں۔حضرت سلمہ بن اکوع ایک پہاڑی پر چڑھ گئے۔اور زور زور سے چلا کر مسلمانوں کو بتایا کہ ڈاکو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لے جا رہے ہیں۔سلمہ بن اکوع دوڑنے میں بہت تیز رفتار تھے۔ابھی بارہ سال کے ہی تھے کہ وہ ہرنی کی طرح تیز دوڑتے اور عرب کے تیز رفتار گھوڑوں سے بھی زیادہ تیز دوڑ لیتے۔اس کے علاوہ بہترین تیرانداز بھی تھے۔آپ نے اکیلے ہی ڈاکوؤں پر تیروں کی بوچھاڑ کردی۔ڈاکو سمجھتے رہے کہ بہت سارے لوگ ان کا پیچھا کر رہے ہیں وہ بدحواس ہو کر بھاگ رہے تھے جب مڑ کر دیکھا تو اکیلا ایک بچہ ہی تھا۔اس کا پیچھا کیا۔تو سلمہ پھر دوڑ کر پہاڑی پر چڑھ گئے اور ڈاکوؤں سے کہا میرا نام سلمہ بن اکوع ہے۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں اگر تم میں سے کوئی مجھے پکڑنا چاہے تو ہرگز نہیں پکڑ سکتا۔البتہ میں تم کو پکڑ سکتا ہوں۔اس طرح انہوں نے ڈاکوؤں کو باتوں میں لگائے رکھا۔یہاں تک کہ مسلمان ان کی مدد کو پہنچ گئے۔مسلمان بچوں کی بہادری کے ایسے کارنامے ہیں کہ دُنیا ان کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔رسول خدا کی اونٹنی اور دوخوش نصیب بچے ہجرت کے بعد جب ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ہر شخص کی یہی خواہش تھی کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر قیام فرمائیں ہر ایک آگے بڑھ کر کہتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم حاضر ہیں ہمارے مال و جان حاضر ہیں آپ قبول فرمائیں اور جوش محبت میں اونٹنی کی باگ پکڑ لیتے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہ خدا کی طرف سے مامور ہے جہاں خدا کا منشا ہوگا یہ وہیں بیٹھے گی۔چنانچہ یہ عظیم سعادت اللہ تعالیٰ نے دو خوش نصیب یتیم بچوں کو عطا فرمائی کہ سہل اور سہیل کی زمین پر جا کر وہ اونٹنی بیٹھ گئی۔خدا تعالیٰ نے ان بچوں کے جذبہ قربانی کو قبول فرمایا اور حضور نے وہ زمین بچوں سے خرید کر وہاں مسجد نبوی تعمیر کی۔( بخاری باب مقدم النبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم ) اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسجد کے لئے زمین خرید کر تعمیر کرنی