حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 29 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 29

58 57 حضرت براء بن عازب بھی غزوہ بدر کے وقت بہت کمسن تھے۔انہوں نے شریک جہاد ہونے کے لئے اجازت مانگی اجازت نہ ملی تو زار و قطار فدایان رسول 116، الفضل 31 اکتوبر 1977 رونے لگے۔جنگ بدر کے جانباز بچے شمن خدا کو قتل کر دیا مسلمان کفارِ مکہ کے خلاف برسر پیکار تھے۔پیغمبر اسلام کے لشکر میں صرف تین سو تیرہ سپاہی تھے ان میں بھی بہت سے بچے شامل تھے۔ستر 70 اونٹ اور دو گھوڑے تھے مگر مقابلے پر ایک ہزار کفار تھے۔جنگ کے طوفان میں دو نوخیز لڑکے کسی جستجو میں پھر رہے تھے ابو جہل کہاں ہے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر کے میدان میں میں نے دائیں بائیں نظر ڈالی تو دیکھا کہ ایک طرف معوذ اور دوسری طرف معاذ ہیں میں نے ایک لمحہ کے لئے سوچا۔اگر میرے دائیں بائیں کوئی مضبوط نوجوان ہوتے تو جنگ میں لڑنے کا مزا بھی آتا۔اس خیال کے آتے ہی ایک بچے نے دائیں طرف سے کہنی ماری اور پوچھا چا ابو جہل کہاں ہے۔ادھر سے دوسرے نے کہنی مار کر پوچھا۔چچا! وہ ابو جہل کہاں ہے جو رسول کریم صلی اللہ صلی علیہ وسلم کو گالیاں دیتا رہتا ہے اور مسلمانوں کو تکالیف دیتا ہے ہم نے ارادہ کیا ہے یا تو اسے قتل کردیں یا اپنی جان بھی دے دیں گے۔میں نے ابھی اُنگلی سے اشارہ ہی کیا تھا کہ وہ دیکھو میدان جنگ میں پہروں میں کھڑا لوہے سے لدا ہوا ہے وہی ابوجہل ہے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں میں نے اشارہ ہی کیا تھا کہ دونوں بچے تیزی سے باز کی طرح اور تلواروں سے ایسا تابڑ توڑ حملہ کیا کہ ابوجہل زمین پر گر گیا۔عکرمہ، اس کا لڑکا، اس کے پاس ہی کھڑا تھا اس نے ایک لڑکے پر وار کیا اور اس کا ایک بازو کٹ کر لٹک گیا جو جنگ میں لڑنے میں حائل ہو رہا تھا۔تو اس نے بازو کو پاؤں کے نیچے رکھ کر جسم سے الگ کر دیا اور پھر لڑنے لگا۔دشمن خدا، ابو جہل نے مرتے ہوئے بڑی حسرت سے کہا میں کمسن لڑکوں کے ہاتھوں قتل ہوا ہوں۔( بخاری کتاب المغازی باب غزوہ بدر ) جنگ اُحد کے جانباز کمسن سپاہی جنگ اُحد بڑی خون ریز جنگ تھی بہت سے کم عمر لڑکے بھی اس جہاد میں شامل ہونے کے لئے بیتاب تھے یہ صحرا کے بچے تھے جن کے سروں میں اللہ کی راہ میں اپنی جانیں فدا کرنے کا جنوں سمایا ہوا تھا وہ یا تو فتح چاہتے تھے یا شہادت کا رتبہ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان معصوم بچوں کو جنگ کی آگ میں جانے کی اجازت نہ دی اور بچوں کو واپس جانے کے لئے کہا۔ان میں ایک بچہ رافع بھی تھا جو بہت اچھا تیرانداز تھا اس کے باپ نے حضور صلی اللہ ولیہ وسلم کی خدمت میں درخواست کی کہ اسے ماہر نشانہ باز ہونے کی وجہ سے اجازت دے دی جائے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم مان گئے۔) یہ دیکھ کر ایک نوخیز بہادر سمرع جو رافع سے زیادہ طاقتور تھا جوش میں آیا اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے التجا کی کہ میں گشتی میں رافع کو پچھاڑ سکتا ہوں۔مقابلہ کرالیں۔اگر میں نے اس کو گرا لیا تو مجھے بھی اجازت دے دیں چنانچہ گشتی میں سمرع نے فوراً رافع کو گرالیا کیونکہ واقعی و بہت طاقتور تھا۔چنانچہ اس طریقے سے اُسے بھی میدانِ جنگ میں جانے کی وہ