حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 17 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 17

34 =4 33 ہوتا کہ کسی نے ایسی غلطی کی ہے تو سخت ناراض ہوتے۔یتیم بچوں سے حسن سلوک (مسلم) جنت واجب ہوگئی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یتیموں کی خبر گیری کے لئے بہت سی ہدایات دے کر قوم کو خبردار کیا ہے کہ یتیم کا خاص خیال رکھا جائے۔جیسا کہ فرمایا:- (1) فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقُهَرُ (الضحی : 10 ) (2) كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيم (الفجر : 18 ) کہ یتیم کی احسن طریق پر پرورش کرو۔اور اسے دباؤ نہیں اور ہرگز ایسا نہ ہو کہ ان کی عزت نہ کرو بلکہ ہمیشہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک روا رکھو اور ان کی حفاظت اور تربیت کا خیال رکھو۔یتیم بچے قوم کا ایک نہایت قیمتی خزانہ ہوتے ہیں اگر ان کی طرف توجہ نہ دی جائے تو یہ خزانہ ضائع ہو جاتا ہے۔بے بس اور بے سہارا بچے آوارگی کا شکار ہو جاتے ہیں اور قوم کے لئے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں نیز ہمارے پیارے آقا نے جو خود بھی یتیم تھے فرمایا:- اَنَا وَكَافِل اليتيم فِي الْجَنَّةَ كَهَا تَين (ترندی) کہ میں اور یتیم کی پرورش و حفاظت کرنے والا مسلمان جنت میں دونوں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے جس طرح یہ میری دو انگلیاں اور۔فرماتے ہوئے آپ نے اپنے ہاتھ کی دو انگلیاں اُٹھا کر ملا کر دکھائیں۔( بخاری کتاب الادب، ص 346 حدیث نمبر (943) پھر فرمایا:- مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةِ (مسلم کتاب الزہد ) یعنی جو شخص اپنے کھانے پینے میں یتیم کو شامل کرتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔اسوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم 465،464) ہلاکت کا موجب پھر فرمایا:- أَكُلُ مَا لِ الْيَتِيمِ اهْدِ الْمُوبَقَاتِ کا مال کھانا ہلاکت کا موجب بنتا ہے۔ان کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے۔اسوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم 464) یتامی کو وظائف ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یتیموں سے بے پناہ محبت و شفقت کا سلوک فرماتے۔ان کی دیکھ بھال کی طرف خاص توجہ دیتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے بیت المال سے یتامیٰ کو وظائف دئے جاتے اور ان کی ضروریات پوری کی جاتیں۔الفضل سیرت النبی نمبر 1983 ص 17) یتیم بچے کی حالت دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ایک دفعہ مکہ کے بازاروں میں ایک یتیم بچہ روتا ہوا جا رہا تھا۔اس