حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 16 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 16

32 31 زیور پہنانے کی خواہش ایک دفعہ آپ کے منہ بولے بیٹے حضرت زید کے بیٹے اسامہ کو چوٹ لگ گئی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کا خون صاف کرتے تھے اور ماں کی طرح پیار کرتے ہوئے فرماتے تھے۔اگر اسامہ لڑکی ہوتی تو میں اسے زیور پہناتا۔و (مسند احمد جز سادس صفحه 222) اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ حضور کو بچیوں سے زیادہ محبت تھی یہ نسبت بچوں کے۔پینے اور غلاموں کے بچوں میں مساوات حضرت اسامہ بن زید اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گود میں لے کر ایک ران پر مجھے اور دوسری ران پر اپنے نواسے حسن کو بٹھا لیتے اور دونوں کو سینے سے لگا کر بھینچتے اور فرماتے اے اللہ میں ان دونوں سے پیار کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت کر۔( بخاری مناقب الحسن و الحسین، الفضل سیرت النبی نمبر 1984،ص11) صفائی کا خیال حضرت اسامہ بچے تھے ان کی ناک بہہ رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ نے صاف کرنا چاہا حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ میں صاف کر دیتی ہوں۔تو آپ نے فرمایا تو اسامہ سے محبت کر کیونکہ میں بھی اس سے محبت و الفت رکھتا ہوں۔الفضل 1984 سیرت النبی ص 11 ، بخاری کتاب الفضائل اصحاب ) غیر مسلم غلام بچے کی عیادت حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خادم تھا وہ ایک دفعہ بیمار ہو گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس کے سرہانے تشریف فرما ہوئے اس حدیث سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پاک اور اعلیٰ نمونہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نوکر کی عیادت کے لئے جو مسلمان بھی نہیں تھا تشریف لے گئے اور اس کا حال پوچھا۔( بخاری کتاب الجنائز حدیث نمبر 216 ، رسول اللہ کی باتیں، ص 32) مشرکین کے بچوں سے شفقت اور ہمدردی ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ صرف مسلمان بچوں سے بے انتہا لگاؤ تھا بلکہ دوسرے مذاہب کے بچے بھی آپ کی اس محبت سے محروم نہ تھے۔ایک جنگ میں مشرکین کے چند بچے مارے گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم ہوا تو آپ کو اس کا بہت رنج اور دُکھ ہوا۔اور سخت ناراض ہوئے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بچے مسلمانوں کے تو نہ تھے۔اس پر آپ نے فرمایا تم سے اچھے تھے۔خبردار بچوں کو قتل نہ کرو۔ہر جان خدا ہی کی فطرت پر پیدا ہوتی ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 135) عورتوں اور بچوں کو نہ ماریں نیز آپ لڑائی میں تاکید فرماتے تھے کہ مسلمان کبھی خود حملہ نہ کریں۔ہمیشہ دفاعی طور پر لڑیں۔اور یہ کہ عورتوں اور بچوں کو نہ ماریں۔بوڑھوں اور معذوروں کو نہ ماریں۔جو ہتھیار ڈال دیں ان کو نہ ماریں عمارتیں نہ گرائیں۔درختوں کو نہ کاٹیں فصلوں اور گاؤں کو نہ لوٹیں۔اگر آپ کو معلوم