حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 15 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 15

30 29 اضطراب کی حالت میں اُڑ رہا ہے ہے اور آواز دے رہا ہے۔حضور نے فرمایا اسے کس نے تکلیف دی ہے ایک نو عمر صحابی نے عرض کیا یارسول اللہ میں نے اس کے انڈے اُٹھا لئے ہیں فرمایا اس پر رحم کرو اور اس کے انڈے وہیں رکھ دو۔( سیرت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم 275) غلام بچوں سے شفقت اور حسن سلوک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غلاموں اور خادموں سے ایسا اعلیٰ اور نیک سلوک فرماتے اور ایسی شفقت و محبت سے پیش آتے کہ جس کی مثال دُنیا کا کوئی لیڈر یا مذہبی پیشوا یا کوئی بادشاہ پیش نہیں کر سکتا۔حضور اپنے خادم کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے۔سفر میں سواری پر بٹھاتے اس کی ہر ذاتی ضرورت پوری کرتے اور کام میں مدد فرماتے۔اور غلاموں سے سے اتنی محبت سے پیش آتے کہ ان کو ماں باپ کا پیار دیتے۔حضرت زید بہت چھوٹی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے لیکن آپ کے محبت بھرے سلوک اور بے پناہ شفقت کی وجہ سے اپنے ماں باپ کو بھول گئے۔زید نے ماں باپ کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا حضرت زید بہت چھوٹی عمر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آئے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبت بھرے سلوک اور بے پناہ شفقت کی وجہ سے اپنے ماں باپ کو بُھول گئے۔حضرت زیڈ غلام تھے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر کے بیٹا بنا لیا تھا۔یہاں تک کہ لوگ انہیں زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہنے لگے تھے۔زید کے والد اور رشتہ دار اُن کو لینے آئے تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب زید نے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی پر فخر کر کے اس نے والدین کے پیار پر ترجیح دی۔حضرت زید غلاموں میں سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔آپ کا قرآن کریم میں بھی ذکر آتا ہے۔(سرکار دو عالم طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث نمبر 27) کبھی اُف تک نہ کہی حضرت انس کے ساتھ بھی یہی شفقت و محبت کا سلوک روا تھا۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی ڈانٹا۔نہ مارا نہ جھڑ کا بلکہ جو خود کھاتے وہ مجھے کھلاتے۔اچھا کپڑا پہناتے اور کام میں برابر ہاتھ بٹاتے۔دس سال تک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا مگر اس طویل عرصہ میں آپ نے مجھے اُف تک نہ کہی۔نہ یہ کہا کہ یہ کام کیوں کیا ہے اور یہ کام کیوں نہیں کیا۔بلکہ میرے آقا میرے ساتھ کام میں برابر شریک ہوتے اور مجھ سے کوئی ایسا کام نہ لیتے جو میں کر نہیں سکتا تھا میرے ساتھ خود کام کرتے۔اگر مجھ سے کوئی کام خراب بھی ہو جاتا تو کبھی غصہ نہ فرماتے اور نہ ہی نفرت سے دیکھتے۔اور نہ بُرا بھلا کہتے بلکہ مجھے تسلی تشفی سے سمجھا دیتے سخت کلامی سے پیش نہ آتے۔: (بخاری، جلد سوم 356 ، حدیث نمبر 975) نیز حضرت انسؓ نے فرمایا میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بچوں پر رحم و شفقت کرنے والا اور کوئی نہیں دیکھا۔(مسلم کتاب الفصل صفحه 27)