سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 9
14 حضرت عمر الفاظ سکھائے گئے۔انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ میں نے خواب میں ایک شخص کو اذان کے طریق پر یہ الفاظ پکارتے سنا ہے۔اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ خواب خدا کی طرف سے ہے اور عبد اللہ کوحکم دیا کہ بلال کو یہ الفاظ سکھا دیں۔عجیب اتفاق یہ ہوا کہ جب بلال نے ان الفاظ میں پہلی مرتبہ اذان دی تو حضرت عمرؓ سے سن کر جلدی جلدی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آج جن الفاظ میں بلال نے اذان دی ہے بعینہ یہی الفاظ میں نے بھی خواب میں دیکھے ہیں۔ایک اور روایت میں ذکر ملتا ہے کہ جب رسول کریم نے اذان کے یہ الفاظ سنے تو فرمایا کہ اسی کے مطابق وحی بھی ہو چکی ہے۔الغرض اس طرح موجودہ اذان کا طریقہ رائج ہوا۔جنگ بدر جب مسلمان مکہ معظمہ کی اذیت ناک زندگی سے چھٹکارا حاصل کر کے مدینہ پہنچے تو ہر طرف اسلام کا چرچا ہونے لگا۔اسلام ایک چھوٹے پودے سے مضبوط تناور درخت بننے لگا۔اس بات نے قریش کی آتشِ غضب کو اور بھی بھڑ کا دیا اور انہوں نے مدینہ پر چڑھائی کا ارادہ کر لیا۔اس کے لئے اخراجات کی فراہمی کا بندوبست مکمل کر لینے کے بعد رمضان ۲ ہجری میں مدینہ کے جنوب مغرب میں بدر کی وادی میں ڈیرے ڈال دیئے۔قریش ایک ہزار تجربہ کا رسپاہ کے ساتھ میدان میں اترے۔جبکہ ان کے پاس ۱۰۰ گھوڑے تھے۔مقابل پر مسلمانوں کی کل تعداد ۱۳ سنتھی اور جس میں صرف ۳ گھوڑے اور ے اونٹ تھے۔جن پر مسلمان باری باری سوار ہوتے تھے۔جنگ پر روانگی سے قبل حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ سے مشورہ طلب کیا تو حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ نے جانثارانہ تقاریر کیں۔حضرت عمر 15 انصار میں سے حضرت سعد بن عبادہ نے جانثارانہ تقریر کی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ہم انصار بھی ہر خدمت اور قربانی کے لئے تیار ہیں۔اس غزوہ میں حضرت عمر رائے ، تدبیر، جانبازی اور جرأت کے لحاظ سے ہر موقع پر حضور کے دست و بازو بنے رہے۔حضرت عمرؓ کے قبیلہ کے ۱۲ افراد آپ کے ساتھ اس غزوہ میں شامل تھے۔سب سے پہلا شہید ہونے والا خوش نصیب بھی حضرت عمرؓ کا ہی غلام تھا۔حضرت عمرؓ کا ماموں عاصی بن ہشام بن مغیرہ جو کہ قریش کا ایک معزز سردار تھا حضرت عمرؓ کے ہاتھوں مارا گیا۔اس جنگ میں ۱۴ مسلمان شہید ہوئے اور مشرک مارے گئے اور خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔مارے جانے والے مشرکین میں سے ۲۴ سردارانِ قریش میں شمار ہوتے تھے۔غزوة أحد غزوہ بدر میں دشمنان اسلام کو جو شدید ترین نقصان اٹھانا پڑا اور وہ اپنے بڑے بڑے سرداروں سے محروم ہو گئے تو مکہ میں عظیم ماتم برپا ہوا۔سرداران قریش نے قسمیں کھائیں که مقتولین بدر کا بدلہ لینا ہے۔ابوسفیان نے قسم کھائی کہ جب تک بدلہ نہ لوں گا اس وقت تک غسل نہ کروں گا۔انہی عزائم کے ساتھ غزوہ بدر کے ٹھیک تیرہویں مہینے یعنی شوال ۳ھ میں مدینہ سے قریباً سو میل کے فاصلے پر احد پہاڑ کے دامن میں سرداران قریش ۳ ہزار تجربہ کار جنگجو افراد پر مشتمل لشکر لے کر پہنچ گئے۔دوسری طرف مسلمانوں کا صرف ےسوافراد پر مشتمل نا تجربہ کا رلشکر تھا۔سے شوال کولڑائی شروع ہوئی اور جلد ہی مسلمان کفار پر غالب آگئے۔دشمن کی فوج کی