سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 8
12 حضرت عمر حضرت عمر سردار تھے۔مدینہ کے لئے تیار ہوئے تو ہتھیار لگائے ، پہلو میں تلوار لٹکائی، کندھے پر کمان دھری ، تیر ہاتھ میں لئے ، نیز ہ سنبھالا اور خانہ کعبہ گئے۔صحن حرم میں قریش کی مجلس جمی تھی۔آپ نے خانہ کعبہ کا طواف کیا۔مقام ابراہیم پر نماز ادا کی۔پھر قریش جہاں دائرہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے وہاں آئے اور کہا۔دشمن مغلوب ہوں، جو چاہتا ہے اس کی ماں بین کرے، اس کی اولاد یتیم ہو اور اس کی رفیقہ حیات بیوہ ہو۔وہ مجھے اس وادی کے پار روک کر دیکھے۔(اسد الغابه زیر عنوان هجره لیکن کسی کو جرات نہ ہوئی کہ آپ کا راستہ روک سکے۔حضرت عمرؓ کے سوا تمام لوگوں نے مخفی ہجرت کی۔جب آپ مدینہ منورہ پہنچے تو آپ نے قبا میں قیام کیا جو دراصل مدینہ سے دو تین میل کے فاصلے پر تھا۔یہیں پر دوسرے مسلمانوں نے ہجرت کے بعد قیام کیا تھا۔ہجرت کا یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ ۱۲۱ ء میں خود حضرت رسول کریم ﷺ نے مکہ چھوڑا اور آفتاب رسالت مدینہ میں طلوع ہوا اور اہل مدینہ نے طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا ( یعنی چودھویں کا چاند ہم پر طلوع ہوا) کے گیتوں سے آپ کا استقبال کیا۔حضرت رسول کریم ﷺ نے مدینہ پہنچ کر مہاجرین کے رہنے سہنے کا انتظام کیا۔انصار و مہاجرین میں بھائی چارہ قائم کیا جس کا اثر یہ ہوا کہ مہاجر جس انصاری کا بھائی قرار پاتا انصاری اس کو اپنی جائداد، مال اور نقدی تمام چیزیں آدھا آدھا بانٹ دیتا تھا۔اس بھائی چارے کے رشتے کے قیام میں حضور نے طرفین کے رتبہ اور حیثیت کا فرق مراتب ملحوظ خاطر رکھا۔چنانچہ حضرت عمرؓ کو حضرت عتبان بن مالک کا بھائی بنایا جو قبیلہ بنی سالم کے 13 حضرت عمرؓ نے ہجرت کے بعد مستقل رہائش قبا میں ہی رکھی۔لیکن زندگی کا یہ معمول بنا لیا کہ ایک دن ناغہ دے کر باقاعدگی کے ساتھ آنحضرت کے پاس جاتے اور دن بھر خدمت اقدس میں رہتے۔ناغہ کے دن حضرت عتبان بن مالک حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور جو کچھ سنتے وہ حضرت عمرؓ کے پاس آ کر بیان کرتے۔اذان کی ابتداء مدینہ پہنچ کر مسلمانوں کو امن اور سکون کی زندگی نصیب ہوئی۔اب وقت آ گیا تھا کہ اسلام کے فرائض و ارکان کی تعیین ہو۔نماز کے اعلان کا طریقہ بھی معین نہ تھا۔صحابہ عموماً وقت کا اندازہ کر کے خود نماز کے لئے جمع ہو جاتے۔لیکن یہ صورتحال قابل اطمینان نہ تھی۔خصوصاً جب مسلمانوں نے مسجد نبوی کی تعمیر کر لی تو اس بات کا زیادہ احساس ہونے لگا کہ کس طرح مسلمان وقت پر نماز کے لئے جمع ہوا کریں۔حضور کے مشورہ طلب کرنے پر کسی صحابی نے ناقوس کی رائے دی، کسی نے یہود کی طرح بوق (بنگل) کی تجویز پیش کی ، اس طرح بعض اور تجاویز بھی سامنے آئیں۔اس موقع پر حضرت عمر نے مشورہ دیا کہ کسی آدمی کو مقرر کرایا جاوے جو کہ نماز کے وقت اعلان کر دیا کرے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔آنحضرت نے اس رائے کو پسند فرمایا اور حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ اس فرض کو ادا کیا کریں۔اس کے بعد جب نماز کا وقت ہوتا تو وہ الصَّلوةُ جَامِعَة کہہ کر پکارا کرتے اور لوگ مسجد نبوی میں جمع ہو جایا کرتے۔بلکہ اگر نماز کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے بھی لوگوں کو مسجد میں جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی ندادی جاتی۔کچھ عرصہ کے بعد ایک صحابی عبداللہ بن زید انصاری کو خواب میں موجودہ اذان کے