سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 10
16 حضرت عمر صفیں الٹ دی گئیں۔فتح حاصل ہوتے ہی ایک گھائی میں متعین تیراندازوں کے گروہ نے دوسرے فاتحین کے ساتھ مل کر مال غنیمت اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔خالد بن ولید کو گھائی خالی نظر آئی تو اس نے ادھر سے حملہ کیا۔مسلمانوں میں ایسی بھگدڑ مچی کہ بعض جگہ مسلمانوں کی تلوار میں مسلمانوں پر پڑنے لگیں۔ابن قمہ اور عتبہ بن ابی وقاص نے حضور پر حملہ کیا جس سے حضور کے دانت مبارک شہید ہو گئے اور چہرہ خون آلود ہو گیا۔لیکن ابن قمہ نے یہ مشہور کر دیا کہ میں نے محمد ( ﷺ ) کو نعوذ باللہ ) قتل کر دیا ہے۔مسلمان صحابہ اور بعض صحابیات نے اس روز حضور کا دفاع جان پر کھیل کر کیا۔حضرت سعد بن ابی وقاص نے تیراندازی کر کے دشمنوں کو پرے دھکیلا جبکہ حضرت طلحہ نے نبی کریم کو تیروں کی بارش سے بچانے کے لیے اپنا ہاتھ حضور کے چہرہ مبارک کے سامنے کیے رکھا۔حتیٰ کہ ان کا ہاتھ شل ہو گیا۔حضرت ام عمارہ نے اس روز حضور کا دفاع خنجر سے کرتے ہوئے کندھے پر گہرا گھاؤ کھایا۔زید بن سکن انصاری نے پانچ انصار صحابہ کے ساتھ آنحضور ﷺ کے سامنے ایک ایک کر کے جان دی۔اس روز ستر مسلمان شہید ہوئے۔لڑائی کا زور کچھ کم ہونا شروع ہو گیا۔صحابه حضور سمیت ایک درے تک پہنچ گئے تب قریش کے ایک دستے نے خالد بن ولید کی کمان میں پہاڑ پر چڑھ کر حملہ کرنا چاہا لیکن آنحضرت کے حکم سے حضرت عمرؓ نے چند مہاجرین کو ساتھ لے کر اس کا مقابلہ کیا اور اسے پسپا کر دیا۔اس موقع پر ابوسفیان نے ابن قمہ کے نعرہ پر یقین کرتے ہوئے کہ میں نے محمد کو قتل کر دیا ، میں نے محمد کو قتل کر دیا اونچے ٹیلے پر کھڑے ہو کر کہا۔کیا تم میں محمد ہیں ؟ ابوبکر تم میں ہیں؟ پھر پوچھا عمر باقی ہیں؟ آنحضور ﷺ کے منع فرمانے پر مسلمانوں نے کوئی جواب نہ دیا۔تب اس نے ہبل بت کا نعرہ بلند کیا اور کہا آج ہم نے بدر کا بدلہ لے لیا۔اس پر حضرت عمر 17 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق و فر مایا تمہیں کیا ہو گیا ہے، جواب کیوں نہیں دیتے ؟ اس کا جواب دو اور حضور کے سکھانے پر حضرت عمر نے کہا۔لله اغلى وَ اَجَل یعنی بلندی و بزرگی صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔“ جب حضرت عمرؓ نے ابوسفیان کو جواب دیا۔تو ابوسفیان نے حضرت عمرؓ کی آواز الله پہچان کر کہا کہ عمر سچ سچ بتاؤ کیا محمد زندہ ہیں۔“ حضرت عمر نے کہا۔ہاں ہاں ! خدا کے فضل سے وہ زندہ ہیں اور تمہاری یہ باتیں سن رہے ہیں۔“ ابوسفیان نے کسی قدر دھیمی آواز سے کہا تو پھر ابن قمہ نے جھوٹ کہا ہے۔کیونکہ میں تمہیں اس سے زیادہ سچا سمجھتا ہوں۔حضرت حفصہ بنت عمرہ کی شادی حضرت عمر بن خطاب کی ایک صاحبزادی تھیں جن کا نام حفصہ تھا۔وہ حضرت خنیس بن خذافہ کے عقد میں تھیں جو ایک مخلص صحابی تھے اور جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔بدر کے بعد مدینہ واپس آنے پر حضرت خنہیں بیمار ہو گئے اور اس بیماری سے جانبر نہ ہو سکے۔کچھ عرصہ بعد آنحضور ﷺ نے خود حضرت عمرؓ کو حضرت حفصہ کے لئے پیغام بھیجا۔حضرت عمرؓ کو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے تھا۔انہوں نے نہایت خوشی سے اس رشتہ کو قبول کیا اور شعبان ساتھ میں حضرت حفصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آ کر حرم نبوئی میں داخل ہوگئیں۔( سيرة خاتم النبین صفحہ ۴۷۷ )