سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ

by Other Authors

Page 7 of 28

سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 7

10 حضرت عمر لوگ ہٹ گئے۔لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ لوگ اسلام لانے کی وجہ سے پیٹے جائیں اور میں امن سے رہوں۔میں نے کہا یہ کوئی بات نہ ہوئی۔پھر ایک روز جب لوگ خانہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے تھے۔میں اپنے ماموں کے پاس گیا اور کہا۔ماموں میری بات سنیے۔انہوں نے کہا بھانجے ایسا مت کر۔میں نے کہا نہیں ماموں۔اپنی پناہ کو اٹھا لیجئے۔ماموں نے کہا۔بہت اچھا جو تمہاری مرضی۔پھر لوگ مجھے مارنے لگ گئے۔میں بھی ان کا مقابلہ کرتا۔حتی کہ اللہ نے اسلام کو معزز کر دیا۔“ حضرت عمرؓ کے اس اقدام نے ان ضعیف و بے کس مسلمانوں کو بہت زیادہ سہارا دیا جنہوں نے آغاز میں اسلام قبول کیا اور قریش نے ان کو تختہ مشق بنایا۔حق و باطل میں فرق کرنے والا اُسد الغابہ میں لکھا ہے کہ حضرت عمر نے اسلام قبول کرنے کے بعد ایک دفعہ بیان کیا کہ دو میں نے حضور سے عرض کی کہ کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ حضرت نبی اکرم نے فرمایا کیوں نہیں، خدا کی قسم تم زندہ رہو یا موت آ جائے تم حق پر ہو۔اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کی کہ ہم پھر چھپ کر کیوں رہتے ہیں۔قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، ہم باہر نکلیں گے۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قطار میں بنائیں۔ایک کی قیادت حضرت حمزہ کے سپرد کی، دوسری قطار کو میری قیادت میں حضرت عمر دیا۔چنانچہ ہم خانہ کعبہ میں آئے۔قریش نے ہمیں دیکھا تو انہیں وہ صدمہ ہوا کہ اس سے پہلے اس کی مثال نہ تھی۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فاروق لقب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ حق و باطل میں فرق کر دیا۔“ ہجرت مدینہ 11 مدینہ کا اصل نام یثرب تھا لیکن جب حضرت نبی اکرم ﷺ نے اس شہر کو اپنی رہائش کا شرف عطا فر مایا تو اس کا نام مدينة النبی ہو گیا جو کہ بعد ازاں صرف مدینہ کے نام سے معروف ہوا۔قریش لمبا عرصہ تک حضرت رسول کریم کے دعوی نبوت کو بے اعتنائی سے دیکھتے رہے۔پھر اشاعت اسلام میں اضافہ کی بدولت ان کی بے اعتنائی اور لا پرواہی غیظ و غضب میں بدل گئی اور پھر جوں جوں مسلمانوں کی تعداد میں کثرت نمایاں ہوئی ،قریش نے زورو قوت کے ساتھ اسلام کو مٹا دینے کا ارادہ کیا۔حضرت ابو طالب کی وفات تک تو اعلامیہ کچھ نہ کر سکے لیکن ان کی وفات کے بعد مسلمانوں پر اس طرح امڈ آئے کہ چاروں طرف سے مسلمانوں کو گھیر لیا اور مصائب کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیئے۔چنانچہ ہ نبوی میں حضرت رسول کریم ﷺ نے خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق مسلمانوں کو یثرب کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم دیا۔ہجرت کرنے والے ابتدائی صحابہ میں سے حضرت مصعب بن عمیر تھے جو مدینہ کے لئے پہلے مبلغ اسلام بھی تھے۔اسی طرح ابو سلمہ عبداللہ بن اشہل پھر حضرت بلال بن رباح وغیرہ نے بھی شروع شروع میں ہجرت کی۔حضرت عمرہ کی ہجرت کا واقعہ نہایت دلچسپ ہے۔آپ کے ساتھ ۲۰ افراد نے مدینہ کا سفر اختیار کیا۔جب آپ سفر