سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 6
9 حضرت عمر حضرت عمر 8 الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: و کسی نے حضرت عمرؓ سے پوچھا کہ کفر کے وقت تم بڑے غصہ والے تھے اب غصہ کا کیا حال ہے؟ فرمایا غصہ تو اب بھی ہے مگر پہلے اس کا استعمال بے جا تھا اب ٹھکانے پر لگ گیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحه ۵۲۲) اسلام کے لئے جوش حضرت عمرؓ معزز قبیلہ کے ایک فرد تھے۔لوگوں میں ارادہ اور رائے کی پختگی کی وجہ سے معروف تھے۔اس کے ساتھ ہی خوب بہادر اور فصیح البیان بھی تھے۔جب آپ نے اسلام قبول کر لیا تو اپنی تمام تر صلاحیتیں اسلام کے لئے وقف کر دیں۔فرمایا کرتے تھے کہ جب اللہ نے میرے سینہ کو اسلام کے لئے کھول دیا تو آنحضرت سے زیادہ محبوب مجھے کوئی نہ تھا۔اسلام قبول کر لینے کے بعد حضرت عمرؓ نے مختلف دروازوں پر دستک دے کر کہا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں۔وہ جانتے تھے کہ جو مسلمان ہوتا ہےاسے تختۂ مشق بنایا جاتا ہے۔خود بیان کرتے ہیں: میں نے چاہا کہ میں بھی اس لذت سے حصہ پاؤں جس میں کمزور، بے یار و مددگار مسلمان مبتلا ہیں۔چنانچہ میں اپنے ماموں کے پاس گیا جو ذی عزت و وقار تھے۔دروازہ کھٹکھٹایا۔انہوں نے پوچھا کون۔میں نے کہا۔ابن الخطاب۔وہ دروازہ کھول کر باہر آئے۔میں نے کہا آپ کو علم ہے میں مسلمان ہو گیا ہوں ؟ انہوں نے کہا واقعی تو مسلمان ہو گیا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔انہوں نے کہا ایسا مت کرو۔انہوں نے مجھے پھر منع کیا۔میں نے کہا میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔انہوں نے دروازہ بند کر لیا، میں باہر رہ گیا۔میں نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں۔میں وہاں سے چند اور معزیزین قریش میں سے ایک کے پاس آیا اور کہا کہ تم جانتے ہو میں مسلمان ہو گیا ہوں۔اس نے پوچھا واقعی تم نے اسلام قبول کر لیا ہے؟ پھر کہا ایسا مت کرو۔میں نے کہا۔میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔چنانچہ اس نے بھی دروازہ بند کر لیا۔پھر میں وہاں سے چلا تو مجھے ایک شخص نے کہا۔کیا تم چاہتے ہو تمہارے اسلام کا چرچا ہو؟ میں نے کہا۔ہاں۔اس نے کہا جب لوگ خانہ کعبہ کے سایہ میں اکٹھے بیٹھے ہوں وہاں فلاں شخص ( جمیل بن معمر ) کو آہستہ سے بتادو۔تو تمہارے اسلام کا چرچا ہونے لگ جائے گا۔چنانچہ میں نے جا کر اس سے اسی طرح بات کی۔کیا تمہیں علم ہے، میں مسلمان ہو گیا ہوں؟ اس نے یہ سنا تو شور مچا دیا۔لوگو! سنو عمر بن الخطاب صابی (اپنا دین چھوڑنے والا) ہو گیا ہے۔چنانچہ لوگوں نے مجھے زدوکوب کرنا شروع کیا۔میں بھی ان کو مارتا تھا۔یہ کیفیت اس وقت تک جاری رہی جب تک دھوپ کی شدت نے انہیں اس فعل کے ترک کرنے پر مجبور نہ کر دیا۔میرے ماموں عاص بن وائل سہمی ادھر آ نکلے۔انہوں نے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے؟ کسی نے بتلایا عمر بن الخطاب سے لوگ لڑ بھڑ رہے ہیں۔چنانچہ وہ وہاں آئے اور لوگوں کو ہاتھ کے اشارہ سے رکنے کے لئے کہا۔پھر کہا لوگو سنو! میں اپنی بہن کے بیٹے کو پناہ دیتا ہوں۔چنانچہ۔