سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 5
7 حضرت عمر حضرت عمر 6 حضرت عمر اس آیت پر پہنچے کہ إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَ أَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى إِنَّ السَّاعَةَ اتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيْهَا لِتُجْزِى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى دد یعنی میں ہی اللہ ہوں۔میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔پس میری عبادت کر اور میرے ذکر کے لئے نماز کو قائم کر۔ساعت ضرور آنے والی ہے۔بعید نہیں کہ میں اسے چھپائے رکھوں تا کہ ہر نفس کو اس کی جزا دی جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔“ (طه: ۱۵،۱۶) جب حضرت عمرؓ نے یہ آیت پڑھی تو گویا ان کی آنکھ کھل گئی اور سوئی ہوئی فطرت چونک کر بیدار ہوگئی۔بے اختیار ہوکر بولے۔یہ کیسا عجیب اور پاک کلام ہے!“ حضرت خباب نے یہ الفاظ سنے تو فورا باہر نکل آئے اور خدا کا شکر ادا کیا اور کہا۔یہ رسول اللہ کی دعا کا نتیجہ ہے کیونکہ خدا کی قسم! ابھی کل ہی میں نے آپ کو یہ دعا کرتے سنا تھا کہ یا اللہ تو عمر بن الخطاب یا عمرو بن ہشام ( یعنی ابو جہل ) میں سے کوئی ایک ضرور اسلام کو عطا کر دے۔“ حضرت عمرؓ نے حضرت خباب سے کہا۔مجھے ابھی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ بتاؤ“ آپ اس وقت ایسے جوش میں تھے کہ تلوار اسی طرح ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی۔اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دار ارقم میں مقیم تھے۔چنانچہ خباب نے انہیں وہاں کا پتہ بتا دیا۔حضرت عمرؓ گئے اور دروازہ پر پہنچ کر زور سے دستک دی۔صحابہ نے دروازے کی دراڑ میں سے حضرت عمر کونگی تلوار تھامے ہوئے دیکھ کر دروازہ کھولنے میں تامل کیا، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دروازہ کھول دو۔“ اور حضرت حمزہ نے بھی کہا کہ وو دروازہ کھول دو۔اگر نیک ارادہ سے آیا ہے تو بہتر ، ورنہ اگر نیت بد ہے تو واللہ! اُسی کی تلوار سے اس کا سراُڑا دوں گا۔“ دروازہ کھولا گیا۔حضرت عمر ننگی تلوار ہاتھ میں لئے اندر داخل ہوئے۔ان کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور عمر کا دامن پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا اور فرمایا۔عمر کس ارادہ سے آئے ہو؟ واللہ ! میں دیکھتا ہوں کہ تم خدا کے 66 عذاب کے لئے نہیں بنائے گئے۔“ عمرؓ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! میں مسلمان ہونے آیا ہوں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ سنے تو خوشی کے جوش میں اللہ اکبر کہا اور ساتھ ہی صحابہ نے اس زور سے اللہ اکبر کانعرہ مارا کہ مکہ کی پہاڑیاں گونج اُٹھیں۔حضرت عمرؓ اس وقت ۳۳ سال کے تھے اور آپ اپنے قبیلہ بنو عدی کے رئیس تھے۔قریش میں سفارت کا عہدہ بھی انہی کے سپر د تھا اور ویسے بھی نہایت بارعب اور دلیر تھے۔ان کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو بہت تقویت پہنچی اور انہوں نے دارارقم سے نکل کر علی الاعلان مسجد حرام میں نماز ادا کی۔یہ بعثت نبوی کے چھٹے سال کے آخری ماہ کا واقعہ ہے۔اس وقت مکہ میں مسلمان مردوں کی تعداد چالین تھی۔قبول اسلام سے پہلے حضرت عمر کی طبیعت کی سختی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ