سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 4
4 حضرت عمر زیادہ کر دیا تھا۔چنانچہ اسلام سے قبل حضرت عمرؓ مسلمانوں کو ان کے اسلام کی وجہ سے بہت سخت تکلیف دیا کرتے تھے، لیکن جب وہ انہیں تکلیف دیتے دیتے تھک گئے اور ان کے واپس آنے کی کوئی صورت نہ دیکھی تو خیال آیا کہ کیوں نہ اسلام کے بانی کا ہی (نعوذ باللہ ) کام تمام کر دیا جاوے۔یہ خیال آنا تھا کہ تلوار لے کر گھر سے نکلے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش شروع کی۔راستہ میں ایک شخص نے انہیں بنگی تلوار ہاتھ میں لئے جاتے دیکھا تو پوچھا۔عمرؓ! کہاں جاتے ہو؟“ حضرت عمرؓ نے جواب دیا۔محمد کا کام تمام کرنے جاتا ہوں“۔اس نے کہا۔" کیا تم محمد (ع) کو قتل کر کے بنو عبد مناف سے محفوظ رہ سکو گے؟ ذرا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو تمہاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں“۔حضرت عمرؓ جھٹ پلٹے اور اپنی بہن فاطمہ کے گھر کا رستہ لیا۔جب گھر کے قریب پہنچے تو اندر سے قرآن شریف کی تلاوت کی آواز آئی۔جو خباب بن الارت خوش الحانی کے ساتھ پڑھ کر سنا رہے تھے۔حضرت عمرؓ نے یہ آواز سنی تو غصہ اور بھی بڑھ گیا۔جلدی سے گھر میں داخل ہوئے۔لیکن ان کی آہٹ سنتے ہی خباب تو جھٹ کہیں چھپ گئے اور فاطمہ نے قرآن شریف کے اوراق بھی اِدھر اُدھر چھپا دیئے۔حضرت عمر اندر آئے اور بلند آواز سے کہا ! ” میں نے سنا ہے تم اپنے دین سے پھر گئے ہو۔“ یہ کہہ کر اپنے بہنوئی سعید بن زید کی طرف لپکے۔فاطمہ اپنے خاوند کو بچانے کے لئے حضرت عمر 5 آگے بڑھیں تو وہ بھی زخمی ہو ئیں۔مگر فاطمہ نے دلیری کے ساتھ کہا۔ہاں عمر ! ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور تم سے جو ہو سکتا ہے کر لو ہم اسلام کو نہیں چھوڑ سکتے۔“ حضرت عمرؓ نہایت سخت آدمی تھے لیکن اس سختی کے پردہ میں محبت اور نرمی کی بھی ایک جھلک تھی جو اپنا رنگ دکھاتی تھی۔بہن کا یہ دلیرانہ کلام سنا تو آنکھ اور پر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا وہ خون میں تر بتر تھیں۔اس نظارہ کا حضرت عمر کے دل پر ایک خاص اثر ہوا۔کچھ دیر خاموش رہ کر بہن سے کہنے لگے۔” مجھے وہ کلام تو دکھاؤ جو تم پڑھ رہے تھے؟“ فاطمہ نے کہا۔66 د میں نہیں دکھاؤں گی کیونکہ تم اوراق کو ضائع کر دو گے۔“ حضرت عمرؓ نے جواب دیا۔66 و نہیں نہیں تم مجھے دکھا دو۔میں ضرور واپس کر دوں گا۔“ فاطمہ نے کہا۔مگر تم پاک نہیں ہو اور قرآن کو پاکیزگی کی حالت میں ہاتھ لگانا چاہئے۔اس لئے تم پہلے غسل کر لو اور پھر دیکھنا۔“ غالبا ان کا منشاء یہ بھی ہوگا کہ غسل کرنے سے حضرت عمرؓ کا غصہ جاتا رہے گا اور وہ ٹھنڈے دل سے غور کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔جب حضرت عمرؓ غسل سے فارغ ہوئے تو فاطمہ نے قرآن کے اوراق نکال کر ان کے سامنے رکھ دیئے۔انہوں نے اٹھا کر دیکھا تو سورۃ طہ کی ابتدائی آیات تھیں۔حضرت عمر نے ایک مرعوب دل کے ساتھ انہیں پڑھنا شروع کیا۔ایک ایک لفظ اس سعید فطرت کے اندر گھر کئے جاتا تھا۔پڑھتے پڑھتے