سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 22
41 حضرت عمر حضرت عمرؓ 40 آپ کے کارنامے اسلامی ریاست کو غیر معمولی وسعت دینے کے عظیم الشان کام کے علاوہ حضرت عمرؓ نے کئی ایسے اہم کام کئے کہ جو اسلام جیسی عظیم الشان عمارت کے لئے بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتے ہیں۔استحکام خلافت خلافت کے نظام کو حضرت عمر نے مزید مستحکم کیا۔اس میں ایک مجلس شوری قائم فرمائی۔جس میں تمام ملکی و قومی مسائل طے پاتے۔اس مجلس میں مہاجرین وانصار کے منتخب اہل الرائے شامل ہوتے تھے۔احتساب خلیفہ وقت کا بہت بڑا کام قوم کی حفاظت، ان کو اخلاق حسنہ پر کار بند کرنا، اور برے اخلاق سے بچانا ہوتا ہے۔اسی طرح حکام کی نگرانی کرنا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔حضرت عمر اس فرض کو نہایت اہتمام سے انجام دیتے تھے۔وہ اپنے ہر عامل ( گورنر ) کو بہت سادہ رہنے کی تلقین کرتے اور عہد لیتے تھے کہ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا۔بار یک کپڑے نہ پہنے گا۔چھنا ہوا آٹا نہ کھائے گا۔دروازہ پر دربان نہ رکھے گا۔ضرورت مند کے لئے دروازہ ہمیشہ کھلا رکھے گا اور اس بات کا جائزہ لیتے رہتے تمام عامل دیانتداری پر قائم ہیں اور لوگوں کے حقوق ادا کر رہے ہیں۔ملکی نظم ونسق شام و ایران کی فتوحات کے بعد حضرت عمر نے ان تمام علاقوں میں بہترین ملکی نظام قائم فرمایا۔عراق کی پیمائش کرائی، قابل زراعت اراضی کا بندوبست کیا۔عشر وخراج کا طریقہ قائم کیا۔تجارت پر محصول چنگی لگائی۔تمام ملک میں مردم شماری کرائی۔اضلاع میں با قاعدہ عدالتیں قائم کیں۔محکمہ قضا کے اصول وقوانین بنائے۔بیت المال حضرت عمر سے قبل بیت المال یعنی خزانہ کا وجود نہ تھا۔بلکہ جو مال غنیمت آتا یا جو بھی مال آتا اس کو اسی وقت تقسیم کر دیا جاتا۔حضرت عمرؓ نے بیت المال قائم فرمایا اور حضرت عبداللہ بن مسعود کو خزانہ کا افسر مقرر کیا۔اس زمانے میں بیت المال کی وسعت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ دارالخلافہ کے باشندوں کی جو تنخواہیں اور وظائف مقرر تھے صرف ان کی تعداد تین کروڑ درہم تھی۔نئے شہروں کی آبادکاریاں نے فتح ہونے والے علاقوں میں حضرت عمرؓ نے کئی نئے شہر آباد کر وائے۔ان میں بصرہ، کوفہ ، فسطاط، موصل نام کے شہر معروف ہیں۔نہروں کا قیام شہروں کے قیام کے علاوہ حضرت عمر نے نہروں کے قائم کرنے کی طرف توجہ کی تاکہ زراعت زیادہ سے زیادہ ترقی کر سکے اور شہروں میں پانی با آسانی دستیاب ہو سکے۔