سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 23
43 حضرت عمر حضرت عمر 42 نہرابی موسیٰ: یہ نہر دریائے دجلہ سے بصرہ شہر کے لئے کھودی گئی اور 9 میل لمبی تھی۔نہر معقل : یہ نہر بھی دریائے دجلہ سے نکالی گئی اس کا اہتمام چونکہ ایک صحابی رسول معقل بن یسار نے کیا تھا اس لئے اس کا نام معقل مشہور ہوا۔نہرا امیر المؤمنین: یہ سب سے بڑی اور نفع رساں نہر تھی اس میں دریائے نیل کو بحر قلزم سے ملایا گیا تھا۔اس کے ساتھ ہی بحر روم کو بحر قلزم کے ساتھ ملانے کی تجویز بھی زیر غور تھی جو کہ نہر سویز ہوتی مگر بعض حکمتوں کے پیش نظر حضرت عمرؓ نے اس کام کو روک دیا۔تعلق باللہ سیرت فاروقی کی چند جھلکیاں حضرت عمر کی سیرت میں خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا وصف نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔آپ خشوع و خضوع کے ساتھ رات کو اٹھ کر نمازیں ادا فرماتے اور صبح ہونے کے قریب گھر والوں کو جگاتے اور اس آیت کی تلاوت فرمایا کرتے وَأَمُرُ أَهْلَكَ بِالصَّلوةِ۔مؤطا امام مالک) نماز میں عموماً قرآن مجید کی ایسی سورتیں تلاوت فرماتے کہ جن میں خدا کی عظمت و جلال کا بیان ہوتا اور اس قدر متاثر ہوتے کہ روتے روتے ہچکی بندھ جاتی۔حضرت امام حسن کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر نماز پڑھ رہے تھے جب اس آیت پر پہنچے اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ مَّالَهُ مِنْ دَافِع یعنی تیرے رب کا عذاب یقینی ہو کر رہنے والا ہے اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں۔تو بہت متاثر ہوئے اور روتے روتے آپ کی آنکھیں سوج گئیں۔حضرت رسول کریم کے ساتھ محبت (کنز العمال) ایک دفعہ حضرت عمر نے آنحضور عالے سے عرض کی کہ یا رسول اللہ میں اپنی جان کے سوا حضور کے ساتھ تمام دنیا سے زیادہ محبت رکھتا ہوں۔حضور نے جواب دیا میری محبت اپنی جان سے بھی زیادہ ہونی چاہئے۔حضرت عمر نے جواب دیا حضور اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔(فتح الباري)