سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ

by Other Authors

Page 21 of 28

سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 21

38 حضرت عمرؓ نے حضرت عمرؓ کو خبر کی۔بیٹے کی طرف مخاطب ہوئے اور کہا کہ کیا خبر لائے؟ انہوں نے کہا 66 کہ ”جو آپ چاہتے تھے۔“ حضرت عمرؓ فرمایا کہ یہی سب سے بڑی آرزہ تھی۔“ حضرت عمرؓ کو قوم اور ملک کی بہبود کا جو خیال تھا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ عین کرب و تکلیف کی حالت میں جہاں تک ان کی قوت وحواس نے ساتھ دیا اسی دھن میں مصروف رہے۔لوگوں کو مخاطب کر کے کہا جو شخص خلیفہ منتخب ہو اس کو میں وصیت کرتا ہوں کہ پانچ قسم کے لوگوں کے حقوق کا نہایت خیال رکھے۔مہاجرین، انصار، اعراب ( اہل عرب جو دوسرے شہروں میں جا کر آباد ہو گئے تھے ) ، اہل ذمہ ( یعنی عیسائی، یہودی، پارسی جو اسلامی مملکت کی رعایا تھے۔پھر ہر ایک کے حقوق کی وضاحت کی۔حضرت عمرؓ تین دن کے بعد انتقال فرما گئے اور محرم کی پہلی تاریخ ہفتہ کے دن مدفون ہوئے۔نماز جنازہ حضرت صہیب نے پڑھائی۔حضرت عثمان ، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن ، حضرت سعد بن ابی وقاص نے قبر میں اتارا۔ازواج واولاد حضرت عمرؓ نے مختلف اوقات میں متعدد نکاح کئے ، آپ کی ازواج کی تفصیل یہ ہے۔زینب: ہمشیرہ حضرت عثمان بن مظعون ، مکہ میں مسلمان ہو کر فوت ہوئیں۔عاتکہ بنت زید: ان کا نکاح پہلے عبداللہ بن ابی بکر سے ہوا تھا، پھر حضرت عمرؓ کے نکاح میں آئیں۔ام کلثوم : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی اور حضرت علی و فاطمہ کی بیٹی تھیں، حضرت عمرؓ نے خاندانِ نبوت سے تعلق پیدا کرنے کے لئے ان سے حضرت عمر کا ھ میں چالیس ہزار مہر پر نکاح کیا۔39 ملیکتۃ بنت جرول الخزاعی: مشرکہ ہونے کی وجہ سے ان کو بھی طلاق دے دی۔ام حکیم بنت الحارث بن هشام المتز وی حضرت عمرؓ کی اولاد میں حضرت حفصہ اس لحاظ سے سب سے ممتاز ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں داخل تھیں، حضرت عمرؓ نے اپنی کنیت بھی ان ہی کے نام پر رکھی تھی۔بیٹوں کے نام یہ ہیں۔عبداللہ ، عبید اللہ ، عاصم ، ابوشحمہ ، عبدالرحمن ، زید ، مجیر۔ان سب میں عبداللہ عبید اللہ اور عاصم اپنے علم وفضل اور مخصوص اوصاف کے لحاظ سے زیادہ مشہور ہیں۔