حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ

by Other Authors

Page 6 of 21

حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 6

9 8 حضرت مسیح موعود نے یہ سفر مالیر کوٹلہ 1884ء کو لدھیانہ کے سفر کے دوران فرمایا۔نواب ابراہیم علی خان صاحب سے ملاقات اور دعا کے بعد حضرت مسیح اقدس فوراً ہی واپس لدھیانہ تشریف لے گئے۔اس سفر میں آٹھ دس آدمی بھی حضور کے ہمراہ تھے۔حضرت مسیح موعود سے تعلقات کا آغاز حضرت نواب صاحب کی پرورش ابتداء سے ہی مذہبی ماحول میں ہوئی تھی۔ابتدائی عمر میں آپ نے اپنے استاد جو مولوی سید گل علی شاہ صاحب کے فرزند تھے، سے حضرت مسیح موعود کا ذکر سنا۔آپ پر مذہب کا بہت اثر تھا۔حضرت مسیح موعودؓ کا ان دنوں کوئی دعوی نہ تھا۔رفتہ رفتہ حضرت اقدس کا ذکر آپ تک پہنچتا رہا اور جب حضور نے مالیر کوٹلہ کا سفر کیا تھا اس موقع پر حضرت نواب صاحب تعلیم کے سلسلہ میں مالیر کوٹلہ سے باہر گئے ہوئے تھے۔حضرت نواب صاحب نے حضرت اقدس سے خط و کتابت 1889ء میں شروع کی۔مالیر کوٹلہ کا طبقہ امراء جو ہر وقت عیش وعشرت میں غرق رہتا اور غافلانہ زندگی بسر کرتا تھا۔اس طبقہ میں سے ایسا شخص جو لاکھوں روپیہ کی جائیداد کا مالک اور عز و جاہ سے مالا مال تھا۔جس کو عیش و عشرت کے سامان حاصل تھے ، ہمیں سال عمر اور جوانی کا عالم تھا، سر پر کوئی روک ٹوک کرنے والا بھی نہ تھا۔ایسی حالت میں بھی حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے 1890ء میں قادیان کا تاریخی سفر کیا۔آپ اپنے آرام کو الوداع کہہ کر ، کچے راستے کے ہچکولے کھاتے ہوئے قادیان کی طرف رواں دواں ہوئے جو دنیاوی اسباب سے یکسر خالی تھا بلکہ جہاں معمولی سامان زندگی بھی مشکل سے میسر آتا تھا۔آپ کی فطرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سعادت ودیعت ہوئی تھی۔یہ سفر آپ نے تحقیق حق کی خاطر کیا کیونکہ ابھی تک آپ حلقہ بگوش احمدیت نہ ہوئے تھے۔سلسلہ احمدیہ میں شمولیت بعد ازاں بعض سوالات کا اطمینان بخش جواب پانے کے بعد آپ نے بلا تأمل بیعت کا خط لکھ دیا۔رجسٹر بیعت میں آپ کا بیعت نمبر 210 اور تاریخ بیعت 19 نومبر 1890 ء درج ہے۔حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں حضرت نواب صاحب اور آپ کے خاندان کا ذکر فرمایا ہے۔پہلے پہل حضرت نواب صاحب نے اپنی بیعت کو بعض مصلحتوں کی وجہ سے مخفی رکھا۔حضرت اقدس نے جب آپ کے خاندانی حالات ازالہ اوہام میں درج فرمائے تو اس طرح آپ کی بیعت کا اعلان ہو گیا۔جلسہ سالانہ 1892ء میں شرکت حضرت اقدس نے حضرت نواب صاحب کو اپنے ایک مکتوب میں