حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 5
7 6 بچین سکول میں آپ کے اساتذہ نے ہمیشہ اچھا سلوک کیا۔آپ اکثر با وقار طور پر دوسرے لڑکوں سے الگ تھلگ رہتے تھے۔نہ کسی سے دوستی ، نہ جھگڑوں میں پڑتے اور نہ کوئی قانون شکنی کرتے۔اس وجہ سے شکایت کا کوئی موقع ہی نہ آیا۔بچپن ہی سے آپ کی طبیعت میں ایک عزم تھا۔جس بات کو درست سمجھتے اس پر پوری طرح قائم رہتے۔بچپن سے ہی قوم کے لئے غیرت تھی اور غلامی کوئر سمجھتے تھے۔آپ نے کبھی انگریزی لباس نہ پہتا تھا۔آپ ٹینس کا کھیل کھیلتے تھے اور اس کو پسند فرماتے تھے۔آپ کو ہر چیز کی دریافت کا فطر تا شوق تھا۔کھلونے آتے اور فوراً تو ڑکر ان کو جوڑنے کی ترکیبیں سوچتے رہتے تھے۔سوچنے کی عادت آپ کو بچپن کے زمانہ سے ہی تھی۔پہلی شادی آپ کا نکاح 14 سال کی عمر میں اپنی خالہ زاد مہر النساء بیگم صاحبہ سے ہو چکا تھا۔21 سال کی عمر میں تقریب رخصتانہ عمل میں آئی جس میں حضرت نواب صاحب نے حتی المقدور کسی قسم کی رسوم نہ ہونے دیں۔آپ کو رسم ورواج اور بدعات سے بہت نفرت تھی۔مذہب کی طرف رحجان جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے آپ کو بچپن سے سوچ و بچار کی عادت تھی۔والد صاحب کے دل میں بزرگان دین کا ادب اور محبت تھی اور علماء کی صحبت کا شوق تھا۔آپ کو بھی گھر میں آنے والے مولوی یا مجتہد سے ضرور ملواتے اور ان سے باتوں کے دوران آپ کو پاس بٹھائے رکھتے۔بچپن سے ان مجلسوں کی وجہ سے آپ میں مذہبی ذوق و شوق پیدا ہو گیا۔آپ کے والد شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے لیکن آپ کو 14 سال کی عمر میں اس مسلک سے ملبغا دوری پیدا ہوگئی۔حضرت مسیح موعود کا سفر مالیر کوٹلہ براہ راست حضرت مسیح موعود سے تعلق کا آغاز ہونے سے قبل حضرت نواب صاحب کے خاندان کے ایک معزز فرد کے حضرت اقدس سے اچھے تعلقات پیدا ہو چکے تھے جو بالآخر حضور کے مالیر کوٹلہ تشریف لے جانے کا موجب ہوئے۔اور حضور نے یہ سفر اس لئے فرمایا تھا کہ نواب ابراہیم علی خان صاحب نے براہین احمدیہ کی اشاعت میں حصہ لیا تھا۔ان کی طرف سے براہین احمدیہ کی اعانت حضرت اقدس کی نگاہ میں قابل قدر ٹھہری۔آپ نے نواب ابراہیم علی خان صاحب کو سلسلہ کے لٹریچر میں ایک زندگی عطا کی اور ان کی بیماری کی خبر پا کر دعا کے لئے بھی تشریف لے گئے تا کہ عیادت اور شکریہ کی عملی روح نمایاں ہو۔