حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 7
11 10 بار بار تحریک فرمائی کہ کچھ عرصہ حضور کی صحبت میں آکر رہیں۔حضور نے اپنے مکتوب کے آخر پر فرمایا: ملاقات نہایت ضروری ہے۔میں چاہتا ہوں کہ جس طرح ہو سکے 27 دسمبر 1892 ء کے جلسہ میں ضرور تشریف لاویں۔انشاء اللہ القدیر آپ کے لئے مفید ہوگا۔چنانچہ حضرت نواب صاحب اس جلسہ میں شریک ہوئے۔حضرت مسیح موعود گاہے بگا ہے آپ کے مکان پر تشریف لے جاتے ،تقریر فرماتے اور اپنے خواب اور الہام کا ذکر کرتے۔خلیفہ اول سے قرآن کریم پڑھنا حضرت نواب صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ میں حضرت مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اسیح الاول) سے قرآن مجید پڑھنا چاہتا ہوں۔چنانچہ حضرت اقدس کے ارشاد پر حضرت مولوی صاحب 1896 ء میں مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے اور چند ماہ وہاں قیام کیا۔آپ کے ہمراہ آپ کے گھر والے بھی تھے۔کچھ عرصہ آپ کا قیام شہر میں رہا، پھر آپ کے قیام کا انتظام شیروانی کوٹ میں ہوا جہاں ہر طرح کا مکمل انتظام تھا۔گھوڑا گاڑی بھی آپ کی ضرورت کے لئے وہاں تھی۔حضرت نواب صاحب شہر سے روزانہ شیروانی کوٹ جاتے تھے اور آپ سے قرآن شریف پڑھتے اور دوپہر کا کھانا آپ کی معیت میں تناول کر کے واپس آتے۔حضرت مسیح موعود حضرت نواب صاحب کو بار بار ملاقات کی تلقین فرماتے تھے اور حضور کی تو جہات سے نواب صاحب کو قادیان بار بار آنے کا موقع ملا۔قادیان ہجرت حضرت نواب صاحب کی قادیان ہجرت میں بہت سی روکیں تھی۔ظاہری دولت وحشمت ، مال و منال عزت و اکرام، جاگیریں اور وطن جہاں آپ کی ایک طرح کی حکومت تھی۔قادیان آنا گویا ان سب چیزوں کو چھوڑنا تھا۔حضرت مسیح موعودؓ کی توجہ، شفقت اور دعاؤں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضرت نواب صاحب کے لئے تمام مشکلات آسان کر دیں اور انشراح قلب کے ساتھ قادیان ہجرت کی توفیق عطا فرمائی۔ابتداء میں آپ کو قادیان میں قیام کے لئے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تا ہم آپ کی ہجرت اللہ تعالیٰ نے جس رنگ میں قبول فرمائی اور جس طرح آپ کو نو از ایہ آپ کی زندگی کا ایک کھلا ورق ہے۔ہجرت کے بعد آپ اپنے دو کچے کمروں میں آکر ٹھہرے جو ” الدار سے ملحق تھے۔آپ کے بیٹے نواب عبدالرحمن صاحب کہتے ہیں کہ اس مکان کی تنگی کی یہ حالت تھی کہ ایک کوٹھڑی جس میں صرف ایک پلنگ کی گنجائش تھی۔حضرت والد صاحب اور خالہ جان ( دوسری والدہ ) رہتے تھے اور ہم تینوں بھائی ساتھ کے کچے کمرے میں رہتے تھے۔جب بارش ہوتی تو اس کچھے کمرے کے گرنے کا خطرہ