حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 7 of 18

حضرت مصلح موعود ؓ — Page 7

10 9 حضرت سید محمودہ بیگم صاحبہ سے رڑکی میں ہوا۔اور ۱۹۰۳ء میں آپ کی شادی ہوئی۔حضرت اُئِم ناصر صاحبہ ( حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ کو ام ناصر کہا جاتا ہے ) کے سات لڑکے اور دولڑکیاں ہیں جن کے نام یہ ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ امسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب (مرحوم)۔صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ( مرحوم )۔صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب۔صاحبزادہ مرزا انور احمد صاحب۔صاحبزادہ مرزا اظہر احمد صاحب۔صاحبزادہ مرزا رفیق احمد صاحب۔صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ ( والدہ محترمہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز )۔صاحبزادی امتہ العزیز بیگم صاحبہ۔۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی تو حضرت مصلح موعود کے دل میں خیال آیا کہ اب لوگ طرح طرح کے اعتراض کریں گے اور جماعت کی بہت مخالفت کریں گے اس وقت آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سرہانے کھڑے ہو کر عہد کیا کہ اگر سارے لوگ بھی آپ کو چھوڑ دیں گے اور میں اکیلا رہ جاؤں گا تو میں اکیلا ہی ساری دنیا کا مقابلہ کروں گا اور کسی مخالفت اور دشمنی کی پرواہ نہیں کروں گا۔“ چنانچہ آپ نے اپنی ساری زندگی کبھی کسی کی دشمنی اور مخالفت کی پرواہ نہیں کی اور ہمیشہ دین اور جماعت کی ترقی کے لئے کوششیں کرتے رہے۔آپ کے متعلق اللہ میاں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ اولوالعزم ہوگا۔یعنی بہت ہمت اور حوصلے والا ہوگا۔اور جس بات کا ارادہ کر لے گا اسے پورا کرے گا۔چنانچہ آپ جب کسی بات کا ارادہ کر لیتے تھے تو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے اسے ضرور پورا کرتے تھے۔۱۹۱۲ء میں آپ پہلے مصر اور پھر عرب تشریف لے گئے۔اور خانہ کعبہ کا حج کیا۔آپ نے شریف مکہ سے بھی ملاقات کی اور انہیں وہاں صفائی کے انتظام کی طرف توجہ دلائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ۲۷ رمئی ۱۹۰۸ء کو حضرت مولوی نورالدین صاحب جماعت کے پہلے خلیفہ بنے تو حضرت خلیلة اسبیع الاول کے ہاتھ پر سب سے پہلے حضرت مصلح موعود نے بیعت کی۔آپ حضرت خلیفتہ المسیح الاول سے بہت پیار کرتے تھے اور بہت عزت کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الاول کو بھی آپ سے بہت پیار تھا۔جب بھی آپ حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی مجلس میں حاضر ہوتے تو حضور آپ کے لئے اپنا آدھا گدیلا خالی کر دیتے اور اس پر بیٹھنے کے لئے فرماتے۔ایک دفعہ ایک خطبہ میں حضرت خلیفہ اسیح الاول نے فرمایا کہ میاں محمود بالغ ہے اس سے پوچھ لو کہ میرا سچا فرمانبردار ہے۔ہاں ایک معترض کہہ سکتا ہے کہ میرا سجا فرمانبردار نہیں۔مگر نہیں میں خوب جانتا ہوں، کہ وہ میر اسچافرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار کہ تم میں سے ایک بھی نہیں۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فوت ہونے کے بعد دشمنوں نے بہت اعتراض شروع کر دیئے تو حضرت مصلح موعود نے ان کا جواب لکھا جو کتاب کی شکل میں چھپا اس کتاب کا نام ہے ” صادقوں کی روشنی کو کون دور کر سکتا ہے۔“ یہ آپ کی وو