حضرت مصلح موعود ؓ — Page 8
12 11 پہلی کتاب تھی۔اسے پڑھ کر حضرت خلیفہ اول نے مولوی محمد علی صاحب سے فرمایا کہ مولوی صاحب! مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر مخالفین نے جو اعتراض کئے ہیں ان کے جواب میں تم نے بھی لکھا ہے اور میں نے بھی۔مگر میاں ہم دونوں سے بڑھ گیا ہے۔“ جون ۱۹۱۳ء میں آپ نے جماعت کے لئے قادیان سے اخبار ” الفضل“ نکالا۔اس وقت چونکہ جماعت کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ ایک اخبار بھی نکال سکتی۔اس لئے آپ کی بیوی حضرت ام ناصر صاحبہ نے اپنے سارے زیور حضور کی خدمت میں پیش کر دیئے جن کو بیچ کر الفضل ، چھپنے کا انتظام کیا گیا۔” ۱۳ / مارچ ۱۹۱۴ ء کو حضرت خلیفۃ امسیح الاول فوت ہوئے۔اس دن عصر کی نماز کے وقت سب لوگ بیت نور قادیان میں جمع ہو گئے جہاں حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے داماد تھے حضرت خلیفۃ اسیح الاول کی وصیت پڑھ کر سنائی اور لوگوں سے درخواست کی کہ وصیت کے مطابق کسی شخص کو خلیفہ مقرر کریں۔اس پر حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب مصلح موعود کا نام پیش کیا۔پہلے تو آپ نے انکار کیا لیکن لوگوں کا جوش اور اصرار دیکھ کر آپ سمجھ گئے کہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے۔چنانچہ آپ نے لوگوں سے بیعت لے لی۔اس طرح خدا تعالیٰ نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دوسرا خلیفہ مقرر فرمایا۔غیر مبالکین نے حضرت خلیفۃ ابیع الاول کی وفات پر خلافت کو ختم کرنے کے لئے بہت زور لگایا۔وہ لوگ چاہتے تھے کہ خلافت ختم ہو جائے۔لیکن خدا کے فضل سے ان کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور جماعت احمدیہ میں خلافت قائم رہی۔جو لوگ چاہتے تھے کہ خلیفہ کی بجائے انجمن جماعت کا انتظام سنبھالے ان میں آگئے آگے مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ تھے۔لیکن احمدی جانتے تھے کہ جب تک جماعت کا کوئی خلیفہ نہیں ہوگا جماعت ترقی نہیں کر سکتی۔اس لئے انہوں نے ان لوگوں کی بات نہیں مانی۔جب مولوی محمد علی صاحب وغیرہ نے دیکھا کہ ہماری کوئی بات نہیں مان رہا تو انہوں نے اپنی ایک علیحدہ جماعت بنالی اور اپنا مرکز لا ہور میں بنالیا۔اسی جماعت کو لاہوری یا پیغامی یا غیر مہاکھین کہتے ہیں۔حضرت خلیلۃ ابیع الثانی کی مصروفیات خلیفہ بننے کے بعد بہت بڑھ گئیں۔آپ صبح فجر کی نماز پڑھانے کے بعد درس دیتے پھر بارہ بجے تک ڈاک دیکھتے اور جواب لکھواتے اور جماعت کے دوسرے کام کرتے۔عصر کے بعد بیت اقصا قادیان میں قرآن کا درس دیتے۔مغرب کے بعد بیت مبارک میں مجلس عرفان ہوتی اس مجلس میں آپ لوگوں سے پیاری پیاری باتیں کرتے۔آپ شروع ہی سے بیمار رہتے تھے لیکن خلیفہ بننے کے بعد تو آپ کی صحت پر بہت اثر پڑا اور آپ بہت کمزور ہو گئے۔لیکن بیماری اور کمزوری کے باوجود آپ بہت ہمت سے خلافت کے کام کرتے رہے۔۱۲ را پریل ۱۹۱۴ء کو حضرت مصلح موعود کے حکم کے مطابق ( دعوت الی اللہ ) کے معاملہ پر غور کرنے کے لئے بیت مبارک قادیان میں ملک بھر کے احمدی نمائندوں کی مجلس شوری ہوئی۔اس میں آپ نے فرمایا کہ ”میں چاہتا ہوں کہ ہم میں ایسے لوگ