حضرت مصلح موعود ؓ — Page 6
8 7 اپنا جھگڑا بتایا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ " کتاب میں غلط لکھا ہے جبرائیل اب بھی آتا ہے ایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن سے آپ کے بچپن کے علم اور ذہانت کا پتہ چلتا ہے۔۱۸۹۵ء میں حافظ احمد اللہ صاحب ناگپوری نے آپ کو قرآن شریف پڑھانا شروع کیا۔۷ جون ۱۸۹۷ء کو آپ کی آمین ہوئی۔اس آمین پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک نظم لکھی جس کے کچھ شعر یہ ہیں: کیونکر ہو شکر تیرا۔تیرا ہے جو ہے میرا تو نے ہر اک کرم سے گھر بھر دیا ہے میرا جب تیرا نور آیا جاتا رہا اندھیرا یہ روز کر مبارک سُبْحانَ مَنْ يَّرَانِي تو نے یہ دن دکھایا محمود پڑھ کے آیا دل دیکھ کر یہ احساں تیری ثنا میں گایا صد شکر ہے خدایا، صد شکر ہے خدایا یہ روز کر مبارک سُبْحانَ مَنْ يُرَانِي بچا یہ نظم در مشین میں ہے۔میرا خیال ہے تم لوگوں نے پڑھی ہوگی۔اگر نہیں پڑھی تو اب ضرور پڑھ لینا۔کچھ عرصہ آپ ڈسٹرکٹ بورڈ کے لوئر پرائمری سکول قادیان میں پڑھتے رہے۔۱۸۹۸ء میں تعلیم الاسلام سکول بنا تو آپ اس میں داخل ہو گئے۔حضرت مصلح موعود نے جن لوگوں سے سکول میں تعلیم حاصل کی ان کے نام یہ ہیں:- ا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈ میر الحکم قا دیان۔۲۔حضرت قاضی سید امیرحسین صاحب بھیروی۔۔حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب۔۴۔حضرت مولانا شیر علی صاحب۔۵۔حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب (سابق مہر سنگھ ) ۶۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب۔ے۔حضرت ماسٹر فقیر اللہ صاحب وغیرہ۔حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب کہتے ہیں کہ جب میں حضرت مصلح موعود کو پڑھایا کرتا تھا تو ایک دن میں نے کہا کہ میاں آپ کے والد صاحب کو تو کثرت سے الہام ہوتے ہیں۔کیا آپ کو بھی الہام ہوتا اور خوابیں آتی ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا کہ مولوی صاحب ! خوا ہیں تو بہت آتی ہیں اور ایک خواب تو روز ہی دیکھتا ہوں کہ میں ایک فوج کی کمان کر رہا ہوں۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ جب میں نے آپ سے یہ خواب سنا تو مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کسی دن جماعت کی قیادت کریں گے۔حضرت مولانا شیر علی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے بچپن سے ہی حضور میں سوائے اچھی عادتوں اور اچھے اخلاق کے کچھ نہیں دیکھا۔ابتدا میں ہی آپ میں نیکی اور تقویٰ کے آثار ملتے تھے۔اکتوبر ۱۹۰۲ء میں آپ کا نکاح حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی بیٹی