حضرت مصلح موعود ؓ — Page 5
6 5 فضل سے آپ کو بچالیا۔سچ ہے جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔حضرت مصلح موعود اپنے ماں باپ کے جتنے لاڈلے بیٹے تھے آپ کی تربیت کا اتنا ہی خیال رکھا جاتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان (حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ ) شروع سے ہی خیال رکھتے تھے کہ آپ کی تربیت اس طرح سے ہو کہ آپ ایک اچھے مومن بنیں اور آپ میں اچھے اخلاق پیدا ہوں۔اس لئے آپ کی تربیت کرتے ہوئے چھوٹی چھوٹی بات کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔یہاں ہم آپ کو ایک دو باتیں بتاتے ہیں جن سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ کی تربیت کس طرح ہوئی۔ایک دفعہ بچپن میں آپ ایک طوطا شکار کر کے لائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔محمود ! اس کا گوشت حرام تو نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہر جانور کھانے کے لئے پیدا نہیں کیا۔بعض خوبصورت جانور دیکھنے کے لئے ہیں بعض کی آواز اللہ میاں نے اچھی بنائی ہے کہ ہم ان کی آواز سن کر خوش ہوں۔یعنی بچپن میں ہی آپ کو بتایا گیا کہ بعض چیزیں حرام تو نہیں لیکن ان کا کھانا ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں کیا۔ایک بار حضرت مصلح موعود نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے جو آپ کے چھوٹے بھائی تھے کہا کہ بشیر تم بتاؤ علم اچھا ہے یا دولت؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پاس ہی بیٹھے تھے۔جب آپ نے یہ سنا تو فرمایا۔بیٹا محمودا توبہ کر توبہ کرو۔ن علم اچھانہ دولت۔خدا کا فضل اچھا ہے"۔اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے چھوٹے سے بیٹے کے دماغ میں شروع سے یہ خیال ڈال دیا کہ اگر خدا کا فضل نہ ہو تو علم اور دولت دونوں کسی کام کے نہیں کیونکہ اس علم اور دولت سے اگر برے کام کرنے لگ جائیں تو یہ برے بن جاتے ہیں۔اسی طرح ایک اور واقعہ ہے۔ایک دفعہ حضرت مصلح موعود گھر میں چڑیاں پکڑ وو رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہا۔” میاں گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کرتے۔جس میں رقم نہیں اس میں ایمان نہیں۔ان باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں میں آپ کی تربیت کا خیال رکھا جاتا تھا۔آپ بچپن سے ہی بہت ذہین تھے۔ایک دفعہ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب (خلیفۃ اسیح الاوّل) وہاں سے گزرے۔آپ نے بڑے پیار سے پوچھا۔”میاں آپ کھیل رہے ہیں؟ حضرت مصلح موعود نے فوراً جواب دیا کہ ” بڑے ہوں گے تو ہم بھی کام کریں گئے۔اس وقت آپ کی عمر صرف ۴ سال تھی۔اسی طرح ایک دفعہ آپ ایک لڑکے کے ساتھ گھر میں کھیل رہے تھے اس وقت آپ تقریبا 9 سال کے تھے۔کھیلتے کھیلتے آپ نے یونہی ایک کتاب اٹھا کر کھولی تو اس میں لکھا تھا کہ جبرائیل اب نازل نہیں ہوتے۔آپ نے کہا کہ یہ غلط ہے میرے ابا پر تو نازل ہوتے ہیں۔اس لڑکے نے کہا کہ نہیں جبرائیل اب نہیں آتے کیونکہ اس کتاب میں یہی لکھا ہے۔دونوں اپنی اپنی بات پر اڑے ہوئے تھے۔وہ لڑکا کہتا تھا حضرت جبرائیل اب اللہ میاں کا پیغام لے کر نہیں آتے اور حضرت مصلح موعود کہتے تھے آتے ہیں۔آخر دونوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس گئے اور