حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 4 of 18

حضرت مصلح موعود ؓ — Page 4

4 3 وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا “ 66 بچو! یہ ہے وہ پیشگوئی جو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب مصلح موعود خلیفہ المسیح الثانی کے متعلق تھی اور خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ یہلڑ کا جس کا ذکر پیشگوئی میں ہے 9 سال کے اندر اندر پیدا ہو جائے گا۔حضرت مصلح موعود سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جو چھوٹی عمر میں فوت ہو گیا اس پر دشمن بہت خوش ہوئے کہ آپ کی بات غلط نکلی ہے لیکن اللہ میاں کی باتیں کبھی غلط نہیں ہوا کرتیں اور یہ پیشگوئی تو اللہ میاں کی طرف سے تھی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ وو دوسرالڑکا جس کی نسبت الہام نے بیان کیا کہ دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے وہ اگر چہ ابھی تک جو یکم دسمبر ۱۸۸۸ء ہے پیدا نہیں ہوا مگر خدا تعالیٰ کے وعدے کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہوگا۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں پر اس کے وعدوں کا ملنا ممکن نہیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سبز رنگ کے کاغذ پر ایک اشتہار چھپوایا جسے سبز اشتہار کہتے ہیں اس میں آپ نے لکھا، کہ مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا اور نیز دوسرا نام اس کا محمود اور تیسرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے اور ایک الہام میں اس کا نام فضل عمر ظاہر کیا گیا ہے۔پنڈت لیکھرام جو حضور کا بہت بڑا دشمن تھا اس نے اپنے اشتہاروں میں لکھا کہ تین سال تک آپ کی اولا د ختم ہو جائے گی اور آپ کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہے گا۔لیکن اس کی بات غلط ہوئی اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب حضرت نصرت جہاں صاحبہ کے ہاں ۱۲ / جنوری ۱۸۸۹ء کو رات کے دس گیارہ بجے کے قریب پیدا ہوئے۔بچو! یادر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حضرت نصرت جہاں صاحبہ سے شادی بھی خدا تعالیٰ کے الہام کے مطابق ہوئی تھی۔اور اس شادی سے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے علاوہ اور بچے بھی پیدا ہوئے۔ان میں سے جنہوں نے لمبی عمر پائی ان کے نام یہ ہیں : - حضرت مرزا بشیر احمد صاحب۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور حضرت سیدہ امتہ الحفیظ صاحبہ۔حضرت مصلح موعود کا عقیقہ ۱۸ / جنوری ۱۸۸۹ء کو جمعہ کے دن ہوا اور جس حجام نے آپ کے بال کاٹے اس کا نام دینا تھا۔پرانے خاندانوں میں رواج تھا کہ چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے کوئی عورت رکھ لیتے تھے تا کہ وہ بچے کو سنبھال لے۔آپ کو بھی ایک کھلائی نے دودھ پلایا۔آپ بچپن سے ہی بہت بیمار رہتے تھے ، چنانچہ دو سال کی عمر سے لے کر مسلسل بارہ تیرہ سال ایسا ہی ہوتا رہا کہ کبھی بہت زیادہ کھانسی ہو جاتی کبھی بخار ہو جاتا کبھی خنازیر کی گلٹیاں پھول کر گیند کے برابر ہو جاتیں۔ڈاکٹر کہتے تھے کہ اس بچے کا بچنا مشکل ہے۔لیکن اللہ میاں نے آپ کو لمبی عمر دینے کا اور آپ سے بڑے بڑے کام لینے کا وعدہ کیا ہوا تھا اس لئے ڈاکٹروں کی مایوسی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے خود اپنے