حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 20 of 21

حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 20

37 36 سونے کی تلڑی فروخت کر دی اور احباب جماعت میں سے کسی سے ذکر نہ کی اور ساٹھ حضرت منشی اروڑا خان صاحب کا نمبر ۹۹ پر نام تحریر شدہ ہے۔روپے لے کر میں اڑ گیا اور لدھیانہ جا کر پیش خدمت کئے۔چند روز بعد منشی اروڑا تمہارے رویے سے ہی اشتہارات چھپوائیں گے صاحب بھی لدھیانہ آگئے۔میں وہیں تھا۔ان سے حضور نے ذکر فر مایا کہ آپ کی جماعت ( رفقاء) کپورتھلہ کی استقامت، کامل ایمان اور شاندار مالی قربانی کا ایک بے مثل نے اچھے موقع پر امداد کی منشی اروڑ ا صاحب نے عرض کی جماعت کو یا مجھے تو پتہ بھی نہیں۔واقعہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی کی زبانی سنئے۔آپ فرماتے ہیں: اس وقت منشی صاحب مرحوم کو معلوم ہوا کہ میں اپنی طرف سے آپ ہی روپیہ دے آیا ہوں اور وہ مجھ سے بہت ناراض ہوئے اور حضوڑ سے عرض کیا کہ اس نے ہمارے ساتھ بہت عبد اللہ آتھم کی پیشگوئی کی میعاد کے جب دو تین دن رہ گئے تو محمد خان صاحب مرحوم اور منشی اروڑا خان صاحب مرحوم اور میں قادیان چلے گئے اور بہت سے دوست بھی دشمنی کی جو ہم کو نہ بتایا۔حضور نے منشی ارواڑ ا صاحب کو فر مایا۔منشی صاحب خدمت کرنے آئے ہوئے تھے۔سب کو حکم تھا کہ پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے دعائیں مانگیں۔مرزا کے بہت سے موقعے آئیں گے۔آپ گھبرائیں نہیں منشی صاحب اس کے بعد ایک عرصہ تک مجھ سے ناراض رہے۔“ جشن جو بلی کے لئے چندہ ایوب بیگ مرحوم برادر ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اس قدر گریہ وزاری سے دعا مانگتا تھا که بعض دفعہ گر پڑتا تھا، گرمیوں کا موسم تھا۔محمد خان صاحب اور منشی اروڑ ا صاحب اور میں (( رفقاء ) احمد جلد چہارم ص ۱۴۱) ( بیت ) مبارک کی چھت پر سویا کرتے تھے۔آخری دن معیاد کا تھا کہ رات ایک بجے کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ ابھی منشی اروڑا صاحب مرحوم نے مجھے محمد خان صاحب سے اور اپنے پاس سے کچھ ملکہ وکٹوریہ کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلہ قادیان میں بھی ۲۰ سے ۲۲ جون الہام ہوا ہے کہ اس نے رجوع حق کر کے اپنے آپ کو بچالیا ہے۔۱۸۹۷ ء تک تقریبات منعقد ہوئیں۔اس جلسہ کو جلسہ احباب کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔شدید گرمی میں بیرون جات سے کثیر احباب شامل ہوئے۔حضرت منشی اروڑا خان روپے لے کر جو ۳۰، ۳۵ کے قریب تھے حضور کی خدمت میں پیش کئے کہ حضور اس کے صاحب بھی اس جلسہ میں شریک ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس تاریخی موقعہ متعلق جو اشتہار چھپیں وہ اس سے صرف ہوں۔حضور بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ ہم پر تحفہ قیصریہ کے نام سے کتاب تالیف فرما کر خوبصورت جلد میں ملکہ معظمہ کے لئے تمھارے روپے سے ہی اشتہارات چھپوا ئیں گے۔ہم نے عرض کی کہ ہم اور بھی روپے روانہ کی۔اس موقع پر چھ زبانوں میں دعائیں کی گئیں۔جن میں اردو، عربی، فارسی، بھیجیں گے۔پشتو، پنجابی اور انگریزی زبان شامل تھی۔یہ دعا ئیں روحانی خزائن جلد ۱۲ کے صفحات نمبر ہم نے اسی وقت رات کو بیت سے اتر کر آدمیوں سے ذکر کیا کہ وہ رجوع بحق ہو کر بچ ۲۸۸ تا ۲۹۸ پر درج ہیں۔اس موقع پر جہاں تقاریر، چراغاں، غربا ء کوکھانا دیا گیا وہاں چندہ گیا اور صبح کو پھر یہ بات عام ہوگئی۔صبح کو ہندو مسلمانوں کا ایک بہت بڑا مجمع ہو گیا کہ معلوم بھی جمع ہوا۔حضرت منشی اروڑا خان صاحب بھی چندہ دینے والوں میں شامل تھے چندہ کریں کہ انتم مر گیا یا نہیں۔پھر ان لوگوں کو یہ الہام سنایا گیا۔اس کے بعد ہم اجازت لیکر دینے والئے ۱۳۱۸ حباب کی فہرست روحانی خزائن جلد ۱۲ کے صفحہ ۳۰۱ تا ۳۱۳ درج ہے۔قادیان سے امرتسر آئے اور آکر امرتسر میں دیکھا کہ عیسائیوں نے آٹھم کا جلوس نکالا ہوا