حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 19
35 34 کے بے مثل ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خود اپنے لئے ایک حصہ اور ننانوے حصے اپنے جلسہ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ حضور اقدس نے ان کے اسماء آئینہ کمالات اسلام کے آخر پر درج فرمائے ہیں۔چنانچہ روحانی خزائن جلدہ کے صفحہ ۶۲۵ ۶۲۴ نمبر پر حضرت منشی اروڑا خان صاحب کپورتھلوی کا نام درج ہے۔آقا کے لئے مقرر کئے۔(الحکم ۷ دسمبر ۱۹۴۴ ء ص ۱۵ ) حضور کے قدموں میں روپیہ ڈال دیتے حضرت سید عزیز الرحمن صاحب بریلوی حضرت منشی صاحب کے قریبی دوستوں میں اس جلسہ کے موقع پر تجویز ہوا کہ اشاعت دین کی خاطر قادیان میں مطبع قائم ہونا سے تھے وہ حضرت منشی صاحب کی مالی قربانی کے شوق ، جذ بہ اور اس میں محبت کے عنصر کو چاہئے جس میں تائید دین حق کیلئے کتب اور اخبار بھی شائع ہوا کریں۔اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا اور مخلصین سلسلہ نے حسب استطاعت ماہانہ اور سالانہ چندہ مطبع کے لئے لکھایا۔اس طرح بیان کرتے ہیں۔حضرت منشی محمد اروڑے خان صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک چندہ لکھوانے والوں میں حضرت منشی اروڑا خان صاحب بھی شامل تھے۔حضور علیہ السلام عشق تھا اور وہ سب کچھ حضوڑ پر فدا کر چکے تھے۔آپ کی حالت یہ تھی کہ آپ ہرممکن نے فرمایا تھا کہ اپنی خوشی سے حسب استطاعت مخلصین چندہ لکھوائیں۔۲۹ دسمبر ۱۸۹۲ء کو یہ طریق سے اپنے مال کو بچاتے رہتے تھے اور اس طرح سے جمع کرتے جیسے کوئی بخیل مال چندہ لکھوایا گیا۔ان مخلصین کے اسماء جن کی تعداد ۹۳ تھی آئینہ کمالات اسلام کے آخر پر کو جمع کرتا ہے اور اس روپیہ کو ایک ہمیانی ( روپے رکھنے کی تھیلی ) میں جمع کرتے جاتے اور درج ہیں۔حضرت منشی محمد اروڑا خان صاحب کا نام۰ ۵ نمبر پر تحریر شدہ ہے۔یوں آپ کی یہ کہیں کمیشن کی فیس اور تنخواہ میں سے جس قدر بچے سب اس ہمیانی میں ڈال دیتے۔مالی قربانی تا قیامت کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں محفوظ ہو گئی ہے۔جب وہ بھر جاتی تو میرے پاس آتے اور مجھے ساتھ لے جا کر وہ ہمیانی دکھاتے اور کہتے خدمت نہ ملنے پر ناراض ہو گئے کہ ”ہن نشہ اتر گیا ہے قادیان چلو۔یہ دیکھ ہمیانی رو پے نال بھر گئی ہے۔کبھی میں کہتا حضرت مسیح موعود علیہ السلوۃ والسلام نے ازالہ اوہام میں آپ کے بارہ میں یہ بیان کہ میں تو نہیں جا سکتا تو مجھے دھکا دیکر کہتے کہ ”جا اور آپ تنہا چلے جاتے اور اگر میں فرمایا ہے کہ ” خدمات کو نہایت نشاطت سے بجالاتے ہیں بلکہ وہ تو دن رات اسی فکر میں کہتا کہ میں چلوں گا تو سینے سے لگا لیتے اور کہتے تو میرا بھرا ہے چل ! اور بڑی خوشی لگے رہتے ہیں کہ کوئی خدمت مجھ سے صادر ہو جائے۔“ سے قادیان کا سفر کرتے اور جب قادیان پہنچ جاتے تو حضرت مسیح موعود کے قدموں پر ہمیانی کھولتے اور حضور کے پیروں تلے روپیہ ڈال دیتے۔“ اس کے مشاہدہ اور خراج تحسین کا ایک عملی مظاہر اس بے نظیر واقعہ سے ہمیں ملتا ہے کہ کس قدر حضرت منشی صاحب بے تاب رہتے تھے کہ ان سے سلسلہ کی خدمت صادر ہو (الحکم ۲۱ نومبر ۱۹۳۴ء) جائے۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی زبانی سنئے۔بیان فرماتے ہیں۔ایک دفعہ حضور لدھیانہ میں تھے کہ میں حاضر خدمت ہوا۔حضور نے فرمایا کہ آر مطبع کے لئے چندہ جماعت احمدیہ کا دوسرا جلسہ سالانہ ۲۷، ۲۸، ۲۹ دسمبر ۱۸۹۲ء کو قادیان دارلامان میں کی جماعت ساٹھ روپے ایک اشتہار کے صرف کے لئے جس کی اشاعت کی ضرورت تھی منعقد ہوا۔اس جلسہ کے شرکاء میں حضرت منشی محمد اروڑا خان صاحب بھی شامل تھے۔اس برداشت کر لے گی ؟ میں نے اثبات میں جواب دیا اور کپورتھلہ واپس آکر اپنی اہلیہ کی