حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 18 of 21

حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 18

33 32 کود پڑے۔منشی اروڑا صاحب کے اوپر نیچے پانی اور وہ ہنستے جاتے ہیں۔“ ہائی کورٹ تک پہنچا اور اب پینشن پاتا ہوں۔بہت دفعہ ہم نے دیکھا کہ حضور نے بغیر دعا (( رفقاء ) احمد جلد ۴ ص ۱۶۲) کے کوئی بات فرما دی ہے اور پھر وہ اسی طرح وقوع میں آگئی (( رفقاء) احمد جلد ۴ ص ۲۰۵) (۲) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ازالہ اوہام میں آپ کے بارہ میں جو یوں حضرت منشی اروڑا خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور خراج تحسین تحریر فرمایا ہے اس میں آپ کو سچائی کے عاشق اور بہادر آدمی قرار دیا ہے۔خدا قبولیت دعا کے مظہر اور زندہ گواہ تھے۔کے مسیح کی بات کیسے پوری ہوئی۔جب یہ تحریرلکھی جارہی تھی تب آپ نقشہ نویس تھے لیکن حضرت منشی اروڑے خان صاحب نے فدائیت اور قربانی کی لازوال مثالیں قائم کی ہیں۔اپنا مال اپنا نہیں سمجھا بلکہ حضرت اقدس کی خدمت میں لا ڈالنے میں سعادت سمجھا بے مثال مالی قربانیاں آپ کی سچائی اور دیانتداری کی وجہ سے سرکار نے آپ کو ترقیات دیں اور تحصیلدار ہوکر ریٹائر ہوئے اور ریاست نے خان بہادر کے خطاب سے نوازا۔گویا حضرت صاحب کے الفاظ خطاب خان بہادر کی صورت میں ظاہری لحاظ سے بھی پورے ہو گئے۔آپ خود بیان کرتے تھے۔خود انتہائی غریبانہ اور درویشانہ زندگی گزارتے۔ایک لباس ہی اپنے پاس کرتے ہیں کہ خدا نے مسیح موعود کی باتوں کو کیسا سچا ثابت کیا ہے۔اس نے میرے رکھتے اور کھانے میں بھی انتہائی سادگی لیکن روپیہ جمع کر کر کے اور بچا بچا کے حضرت متعلق لکھا کہ سچائی کے کاموں کے کرنے میں یہ شخص بہادر ہے۔اب بہادر پٹھان ہوتے اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جھولی میں ڈال دیا کرتے تھے۔آپ کی فدائیت اور مالی ہیں میں ذات کا چھینا ( دھوبی)۔اس کی بات کو سچا کرنے کے لئے خدا نے مجھے خان قربانی کی بعض بے نظیر مثالیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ عشق و محبت کے صاحب کا خطاب دلوایا“ تذکرہ میں بیان ہو چکی ہیں جو ہمارے لیے قابل تقلید نمونہ ہیں۔ذیل میں چند ایمان (الفضل یکم نومبر ۱۹۱۹ء) (۳) حضرت منشی ظفر احمد صاحب ایک روایت بیان کرتے ہیں۔”ایک دفعہ میں اور منشی اروڑا صاحب مرحوم قادیان گئے مینشی اروڑا صاحب اس ایک روشن ترین پہلو ہے۔وقت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سرشتہ دار تھے اور میں اپیل نویس تھا۔باتوں باتوں میں میں سور و پیر کی انعامی رقم حضور کی نذر کردی نے عرض کی کہ حضور مجھے اپیل نولیس ہی رہنے دینا ہے؟ فرمایا کہ اس میں آزادی ہے۔افروز واقعات آپ کی مالی قربانی کے بیان کئے جارہے ہیں جو کہ آپ کی سیرت طیبہ کا ایک دفعہ حضرت منشی اروڑا خان صاحب کو سو روپیہ انعام ملا آپ نے اپنے بھائی کو پ ایک ایک دو دو ماہ ٹھہر جاتے ہیں۔پھر خود ہی فرمایا ایسا ہو کہ منشی اروڑ ا صاحب کہیں اور بلایا جو کہ درزی کا کام کرتا تھا اسے بلا کر فرمانے لگے کہ ایک روپیہ میں مجھے دو گر تے بنا دو۔چلے جائیں (مطلب یہ کہ کسی اور آسامی پر ) اور آپ ان کی جگہ سرشتہ دار ہو جائیں۔اس اس نے کہا کہ منشی جی یہ تو مشکل ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں تو ایک روپیہ سے زیادہ خرچ سے کچھ مدت بعد جب کہ حضور علیہ السلام کا وصال ہو چکا تھا منشی اروڑ ا صاحب تو نائب نہیں کر سکتا تب اس نے کہا کہ اچھا میں کوشش کرونگا۔تحصیلدار ہو کر تحصیل بھرنگہ میں تعینات ہو گئے اور میں انکی جگہ سرشتہ دار ہو گیا۔پھر منشی حضرت منشی اروڑے خان صاحب نے ایک روپیہ رکھ کر باقی ننانوے روپے حضرت صاحب نائب تحصیلداری سے پنشن پا کر قادیان جارہے اور میں سرشتہ داری سے رجسٹراری اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بھیج دیئے۔اس سے آپ کی مالی قربانی