حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 13 of 21

حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 13

23 22 کی اور سوار نہ ہونے پر اصرار کرتا رہا۔حضور نے فرمایا: الآمُرُ فَوقَ الْآدَب - ( یعنی حکم آپ ظاہر نہ کرتے تو مسیح موعود علیہ السلام کا یہ اخلاقی معجزہ ظاہر نہ ہوتا کہ آپ نے ایثار ادب سے اوپر ہوتا ہے)۔اس کے بعد مجھے ناچار سوار ہونا پڑا اور میں روانہ ہو گیا۔راستہ کا کامل نمونہ دکھایا۔میں بٹالہ کے قریب سینکڑوں لوگ برلب سڑک حضور کے انتظار میں بیٹھے ہوئے میں نے دیکھے۔انہیں دیکھ کر میں اپنے مسیح کی شفقت اور نوازش کو یاد کر کے وجد میں آگیا۔منشی جی! آپ دعا کیلئے کیوں نہیں لکھتے میں نے خیال کیا کہ وہ انسان جس کے دیکھنے کے منتظر ہزاروں لوگ گھروں سے نکل (الحکم ۲۸ مارچ ۱۹۳۴ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے پیاروں کے ساتھ بہت محبت بھرا سلوک اور تعلق کر راستہ میں انتظار کرتے ہیں وہ اپنے مریدوں سے شفقت کا وہ برتاؤ کرتا ہے کہ ان کے رکھتے تھے۔حضرت منشی محمد اروڑا خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت اقدس لئے خود تکلیف اٹھانی پسند کرتا ہے۔نے مجھے فرمایا بنشی جی لوگ دعا کے لئے لکھتے ہیں آپ کیوں نہیں لکھتے ؟ میں نے عرض کیا کہ حضور میں جانتا ہوں کہ حضور کا وقت بہت قیمتی ہے۔جتنا وقت حضور میرا خط پڑھنے میں میں بٹالہ پہنچ کر اپنی لڑکی کے گھر گیا اور ان کی خیر و عافیت دریافت کر کے وہاں سے قادیان آنے والی سڑک کی طرف روانہ ہو گیا تا کہ حضور سے ملوں اور اپنے واقف کارلوگوں لگائیں گے اتنے میں دین کا کوئی کام کریں گے۔باقی رہی دعا اگر حضوڑ کے دل میں ہم سے کہا کہ آؤ تمہیں حضرت مرزا صاحب کو دکھاؤں۔وہ بھی میرے ساتھ چل پڑے اور نے جگہ پیدا کر لی ہے اور حضور کو ہم سے محبت ہے تو ہمارے بغیر عرض کرنے کے بھی حضور اپنی دعاؤں میں ہم کو نہ بھولیں گے۔جب بٹالہ شہر سے نکل کر کچی سڑک پر پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ خدا کا مسیح تن تنہا ہاتھ میں عصا پکڑے پیدل تشریف لا رہا ہے۔میں یکہ سے اتر گیا اور حضور کو بٹھا لیا اور حضور نے مجھے بھی ساتھ ہی بیٹھنے کا حکم دیا۔اس طرح پر حضور بٹالہ سٹیشن پر پہنچے۔صرف میرے کہنے پر کہ مجھے اپنی لڑکی سے ملنا تھا اور اب چونکہ وقت تنگ آ گیا ہے اس لئے نہیں مل سکوں گا۔حضور (الحکم ۲۸ مارچ ۱۹۳۴) دوطرفہ محبت کا یہ خوبصورت اظہار ہے جو اس روح پرور واقعہ میں بیان ہوا ہے۔آپ اور غلام دونوں ایک دوسرے کے لئے تعلق محبت رکھتے ہیں۔نے پیدل چلنا منظور فرمایا اور مجھے یکہ میں بٹھا کر روانہ کر دیا تا کہ ایک آدمی کو لے کر جلدی آؤ مصافحہ تو کرلیں بٹالہ پہنچ جاوے۔حضرت سید عزیز الرحمن صاحب بریلوی بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کو بھی منشی منشی صاحب جب بھی اس واقعہ کو بیان کرتے تو ان کی آنکھیں پرنم اور آواز میں ایک اروڑے خان صاحب سے بڑی محبت تھی۔جب حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کا نکاح رقت اورسوز پیدا ہو جایا کرتا تھا۔یہ واقعہ مارٹن کلارک کے مقدمہ کا ہے۔کبھی کبھی وہ یہ بھی ہوا اس دن منشی صاحب کپورتھلہ آئے ہوئے تھے۔منبر کے متعلق بعض احباب کی رائے فرمایا کرتے تھے کہ مجھے جب اس واقعہ کی یاد آتی ہے تو کانپ جاتا ہوں کہ مجھ سے بڑی تھی کہ منبر دروازے کے در میں رکھا جائے۔بعض کا خیال تھا ( بیت ) اقصیٰ کے صحن میں غلطی ہوئی اگر میں اس ضرورت کا اظہار نہ کرتا تو حضرت صاحب کو یہ تکلیف نہ ہوتی۔رکھا جائے۔آخر ( بیت) کے صحن میں رکھا گیا۔منشی صاحب بھی منبر کے پاس بیٹھے تھے۔اس بات پر ایڈیٹر الحکم حضرت عرفانی صاحب منشی صاحب کو کہتے ہیں کہ منشی صاحب ! اگر ابھی حضور سے ملے نہیں تھے۔حضور نے منبر پر چڑھتے وقت منشی صاحب کو دیکھ لیا اور