حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 14
25 24 فرمانے لگے اچھا منشی صاحب آپ آگئے ! آؤ مصافحہ تو کرلیں تکلیف تھی۔اس لئے بلا نہ سکا“ اور صرف اس وقت منشی صاحب سے ہی مصافحہ کیا۔اس سے اس خاص محبت کا پتہ مجھے آپ سے دلی محبت ہے چلتا ہے جو حضور کو نشی صاحب سے تھی۔حضور نے کھانا بٹالہ بھیجوا دیا (الحکم کے دسمبر ۱۹۴۴ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آپ سے محبت کا ایک روح پرور واقعہ حضرت سید عزیز الرحمن صاحب بریلوی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک دفعہ حضرت منشی اروڑے خان صاحب اور حضرت منشی محمد خان صاحب اور ( ملفوظات جلد ۳ ص ۵۴۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام منشی صاحب اور دوسرے رفقاء کپورتھلہ کے ساتھ دلی محبت رکھتے تھے اور حضوڑ نے آپ لوگوں کو اس دنیا اور آخرت میں خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے اپنے ساتھ ہونے کی نوید سنائی اور کپورتھلہ کی جماعت سے محبت کا اظہار فرماتے وئے کپورتھلہ کو قادیان کا محلہ قرار دیا۔ہو (( رفقاء ) احمد جلد ۴ صفحہ ۲۲۷) حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب نے بعض دوستوں کی غالباً کسی غفلت پر تنبیہ خاکسار عزیز الرحمن قادیان حاضر ہوئے۔جب واپس جانے لگے تو حضور سے اجازت کے الفاظ تحریر فرمائے جن کو حضرت محمد خان صاحب موحوم نے اپنے متعلق گمان کیا۔جب چاہی تو حضور نے فرمایا کہ کھانا پک رہا ہے کھا کر جانا۔ساتھ ہی حضور ہم کو اندر لے گئے اور یہ بات حضرت مسیح موعود تک پہنچی تو آپ نے حضرت محمد خان صاحب کو اپنے دست کھانا پکتا ہوا دکھایا۔وہاں سے ہم مہمان خانہ آگئے۔جہاں ہمارے لئے لنگر خانہ سے کھانا مبارک سے ۲۷ جنوری ۱۸۹۴ء کو خط تحریر فرمایا۔اس سے حضور کی رفقاء کپورتھلہ سے دلی آگیا ہم نے وہ کھانا کھا لیا۔چونکہ ہم نے اجازت تو لے ہی لی ہوئی تھی اس لئے ہم محبت کا روح پرور ا ظہار ہوتا ہے۔حضور تحریر فرماتے ہیں: کھانا کھا کر چل پڑے۔بٹالہ پہنچ کر جب ہم نے ٹکٹ خرید لئے اور ریل میں بھی بیٹھ گئے زبانی اخویم منشی محمد اروڑا صاحب معلوم ہوا کہ آں محب نے اخویم مولوی حکیم تو ہم نے دیکھا کہ ایک شخص ایک یکہ کو بڑی تیزی سے دوڑاتے ہوئے آرہا ہے۔چنانچہ نورالدین صاحب کی تحریر کو اپنی نسبت خیال کیا ہے۔مگر حاشا و کلا ایسا نہیں ہے۔آپ وہ آدمی آیا اور ہم سے کہنے لگا کہ تم کو کہا تھا کہ کھانا کھا کر جانا تم ویسے ہی چلے آئے۔یہ کھانا دلی دوست اور مخلص ہیں اور میں آپ کو اور اپنی اس تمام مخلص جماعت کو ایک وفادار اور حضرت اقدس نے بھجوایا ہے۔چنانچہ ہم نے اس سے وہ کھانا جس میں پلا ؤ وغیرہ شامل صادق گروہ یقین رکھتا ہوں اور مجھے آپ سے اور منشی محمد اروڑ ا صاحب اور دوسرے کپورتھلہ (الحکم ۷ دسمبر ۱۹۴۴ء) کے دوستوں سے دلی محبت ہے پھر کیونکر ہو کہ ایسی جماعت کی نسبت کوئی نا گوار کلمہ منہ سے تھا ، لے کر رکھ لیا۔آواز پہچان لی نکلے۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اس دنیا و آخرت میں خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے جنوری ۱۹۰۴ء کو صبح کے وقت منشی اروڑا خان صاحب نے حضرت اقدس سے نیاز میرے ساتھ ہوں گے اور آپ ان دوستوں میں سے ہیں جو بہت ہی کم ہیں۔آپ نے دلی حاصل کیا تو آپ نے فرمایا : ” میں نے آواز تو رات کو ہی شناخت کر لی تھی مگر طبیعت کو محبت سے ساتھ دیا اور ہر ایک موقع پر صدق دکھلایا پھر کیونکر فراموش ہو سکتے ہیں۔چاہئے