حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 12
21 20 ( یعنی آدمی اسی کے ساتھ ہوتا ہے جس سے محبت کرتا ہے) کی ظاہری صورت بھی پیدا ہوگئی۔ایں موعود کو بھی آپ سے محبت تھی۔آپ کی مرض الموت میں آپ کے پاس بیٹھے رہے اور پھر آپ کے ایمان افروز واقعات ، محبت اور وفا کو خطبات میں بیان فرماتے رہے۔سعادت بزور بازو نیست۔حضرت اماں جان سے عقیدت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت کا ایک انداز حضرت اقدس کے اہل بیت حضور اقدس کی آپ سے محبت اور شفقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے رفقاء سے محبت اور شفقت کا سلوک فرمایا سے عقیدت و محبت کا اظہار ہوتا تھا۔حضرت منشی صاحب حضرت اقدس کے اہل بیت سے حد درجہ عقیدت کا اظہار فرماتے تھے۔حضرت اماں جان جب بھی حضرت منشی صاحب کی کرتے تھے۔ہمدردی اور شفقت علی الناس آپ کا اعلیٰ وصف تھا۔حضرت منشی محمد اروڑے کوٹھڑی کے پاس سے گزرتیں تو منشی صاحب کھڑے ہو جاتے اور السلام علیکم عرض کرتے خان صاحب کے ساتھ آپ کا بہت محبت اور پیار کا تعلق تھا۔اپنے فدائی غلام سے حد درجہ تھے۔حضرت اقدس کے بچوں کے ساتھ پیار اور محبت کا اظہار فرمایا کرتے تھے اور بچے بھی شفقت فرماتے تھے۔آپ کی قادیان آمد پر خوش ہوتے۔جب حضرت خلیفتہ اسیح ثانی کے بچوں یا خاندان کے دوسرے بچوں کا پاس سے گزر ہوتا تو کہتے میاں ! بابے کو سلام نہیں کرنا اور بہت خوش ہوتے۔مجھے یکہ پر سوار کرا دیا اور خود پیدل ایک دفعہ حضرت میر ناصر نواب صاحب لنگر کے لئے تحریک کرنے آئے تو انہیں دو ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گورداسپور ایک ضروری کام کے لئے جانا تھا۔روپے نذر کئے اور دو پونڈ نکال کر دیئے کہ یہ حضرت اماں جان کو دے دیں۔اسی طرح جب آپ قادیان سے روانہ ہوئے تو بہت سے لوگ آپ کی مشایعت کے لئے اس سڑک حضرت اقدس کے لئے جمع کئے ہوئے پونڈ آپ کی وفات کے بعد آپ نے حضرت اماں تک جو کہ بٹالہ کو جاتی ہے آپ کے ساتھ آئے اور سڑک پر جا کر آپ ٹھہر گئے اور واپس قادیان آنے والے لوگوں سے مصافحہ کر کے فرمایا کہ تم واپس چلے جاؤ اور وہ چند رفقاء حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے محبت جان کو بھجوادیے۔جنہوں نے آپ کے ساتھ گورداسپور جانا تھا ان کو فرمایا تم آگے چلو اور مجھ کو کہا تم ٹھہرو۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے عقیدت و محبت کا تعلق تھا۔جب حضرت منشی صاحب سب رفقاء چلے گئے اور صرف میں اور حضرت صاحب اور یکہ والا وہاں رہ گئے۔۔۔۔گاڑی کا پنشن پا کر مستقل ہجرت کر کے قادیان آگئے تو عزیز الرحمن صاحب بریلوی بیان کرتے ہیں وقت چونکہ تنگ ہو رہا تھا اس لئے میں نے عرض کیا کہ حضور مجھے بٹالہ میں اپنی لڑکی سے ملنا کہ مجھے فرمانے لگے کہ میاں (حضرت خلیفہ ثانی ) کے بارہ میں کوئی بات سناؤ۔جب میں ہے اور وقت بہت کم ہوتا جاتا ہے۔آپ نے فرمایا تم اس یکہ پر سوار ہوکر آگے چلو اور اپنا نے ایک روایت سنائی تو بہت خوش ہوئے۔اسی طرح میری بیوی کو بھی کہتے کہ حضرت کام کر کے پھر مجھے راستہ میں آملنا۔میں نے عرض کیا کہ حضور یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں میاں صاحب کی کوئی روایت سناؤ۔وہ جب کوئی بات سناتی تو بہت خوش ہوتے۔(الحکم تو یکہ پر سوار ہو کر چلا جاؤں اور حضور کو اکیلا چھوڑ جاؤں اور حضور پیدل چلیں۔آپ نے ۷ دسمبر ۱۹۴۴ء) حضور کی خدمت میں عید کے موقع پر نذرانہ ضرور پیش کرتے۔حضرت مصلح فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں تم یکہ پر سوار ہو جاؤ۔پھر بھی میں نے سوار ہونے کی جرات نہ