حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 11
19 18 تھے۔ہم اتفاق سے وہیں جا بیٹھے مگر ہمارے پاس تیسرے درجہ کا ٹکٹ تھا۔حضور نے پوچھا حضرت مسیح موعود کے قریب دفن ہونے کی خواہش آپ کے پاس ٹکٹ کونسے درجے کے ہیں۔( یہ محض اتفاقیہ اور خلاف معمول بات تھی جو حضرت مصلح موعود نے ۲۲ اگست ۱۹۴۱ء کو اپنے خطبہ جمعہ میں حضرت منشی ظفر احمد حضور نے دریافت فرمایا ) ہم نے کہا سوئم درجے کے ٹکٹ ہیں۔آپ نے فرمایا انٹر کا کرایہ کپورتھلوی کا ذکر خیر فرمایا۔حضور نے حضرت منشی ظفر احمد صاحب حضرت منشی اروڑا خان ادا جا کر کر دینا۔جب اسٹیشن پر ہم نے وہ زائد پیسے دیئے تو اسٹیشن ماسٹر نے جو ہمارا واقف صاحب ، حضرت میاں عبد اللہ سنوری اور حضرت منشی محمد خان صاحب کپور تھلوی کے ذکر تھا لینے سے انکار کیا کہ معمولی بات ہے۔منشی اروڑ صاحب نے کہا کہ یہ ہمارے مرشد کا حکم میں فرمایا کہ چاروں ( رفقاء) حضرت مسیح موعود کے ساتھ ابتدائی ایام میں اکٹھے رہے اور یہ ہے۔اس پر بہت اثر ہوا اور وہ پیسے ادا کئے گئے۔“ رتبہ پنجاب کی دوریاستوں پٹیالہ اور کپورتھلہ کونصیب ہوا۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں: (( رفقاء) احمد جلد ۴ صفحه ۲۱۶) اطاعت امام اور مرشد کے حکم کے سامنے کیسی فدائیت اور سرتسلیم خم کرنے والے یہ وجود تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے نقش قدم پر چلنے کی ہم کو بھی تو فیق عطا فرمائے۔فور بٹالہ روانہ ہو گئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت اور اطاعت کا ایک واقعہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ یہ چار آدمی تھے جن کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ دعویٰ ماموریت اور بیعت سے بھی پہلے کے تعلقات تھے کہ ایک منٹ کیلئے بھی دور رہنا بر داشت نہیں کر سکتے تھے۔“ 66 (الفضل ۲۸ اگست ۱۹۴۱ء) حضرت منشی اروڑے خان صاحب حضور اقدس کی زندگی میں بھی حضور سے ایک منٹ کے لئے بھی دور رہنا برداشت نہیں کر سکتے تھے بلکہ حضور کی وفات کے بعد آپ کی منشی اروڑا خان صاحب کے پاس کپورتھلہ خط آیا کہ حضرت صاحب پر مقدمہ قتل خواہش تھی کہ آپ حضور کے قریب دفن ہوں۔چنانچہ آپ نے اپنی وفات سے قبل حضرت بن گیا ہے۔وہ فوراً بٹالہ روانہ ہو گئے۔ہمیں اطلاع تک نہ کی۔میں اور محمد خان صاحب خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں عرض کیا کہ جہاں مجھے دفن کرنا ہے وہ جگہ مجھے دکھا دیں۔تعجب کرتے رہے کہ منشی کہاں اور کیوں چلے گئے ہیں۔ہمیں کچھ گھبراہٹ سی تھی۔خیر اگلے مجھے لوگوں پر اعتبار نہیں خدا جانے کہاں دفن کر دیں۔حضور نے فرمایا منشی صاحب آپ تسلی رکھیں۔۔۔حضرت صاحب کے اس فرمانے سے آپ بہت خوش ہوئے۔دن میں قادیان جانے کے ارادہ سے روانہ ہو گیا۔بٹالہ جا کر معلوم ہوا کہ حضرت صاحب یہاں تشریف رکھتے ہیں اور مارٹن کلارک والا مقدمہ بن گیا ہے۔ابھی میں حضور کی قیام گاہ پر جا کر کھڑا ہی ہوا تھا اور حضور نے مجھے دیکھا بھی نہ تھا نہ میں نے حضور کو ، کہ آپ نے فرمایا منشی ظفر احمد صاحب کو بلا لو۔میں حاضر ہو گیا۔منشی اروڑا صاحب کی عادت تھی کہ حضرت صاحب کے پاس ہمیشہ بیٹھے پیر دباتے رہتے تھے۔(الحکم ۷ دسمبر ۱۹۴۴ ص ۱۶) اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی یہ خواہش پوری ہوئی اور آپ کی وفات کے بعد حضرت مصلح موعود نے بہشتی مقبرہ میں خصوصیت سے حضرت اقدس کے مزار کے قریب منشی صاحب کے لئے قبر تیار کروائی جو حضرت مسیح موعود کے دائیں طرف ۱۲ گز کے فاصلہ پر ہے۔(( رفقاء ) احمد جلد ۴ ص ۲۰۲) یوں آپ کو اپنے معشوق و محبوب و مرشد کی دائی رفاقت نصیب ہوئی اور الْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ