حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 8
13 12 دور خلافت ثانیہ میں خدمات حضرت مفتی صاحب نے جس طرح خلافت اولیٰ کے دور بابرکت میں حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کے ارشاد کے مطابق ہندوستان کے طول وعرض میں اپنی تقاریر اور حضرت مفتی صاحب کو اس مقدس خواہش کی تکمیل میں ابتدائی دور میں بھر پور حصہ لینے کی توفیق ملی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب انگلستان میں دعوت الی اللہ کے لئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے حکم پر 10 مارچ 1917ء کو قادیان سے روانہ ہوئے۔آپ کے لیکچروں کے ذریعہ دعوت الی اللہ کی اسی طرح آپ نے دور خلافت ثانیہ میں بھی سینے میں کفر کو پاش پاش کرنے کی تڑپ اور آہنی عزم اور مضبوط ارادوں کا اندازہ ان حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حکم سے ہندوستان کے متعدد مقامات پر احمدیت کا پیغام بڑی کثرت سے پھیلایا۔خلافت ثانیہ کے وقت غیر مباھین (لاہوری گرد و جو خلافت حقہ کا منکر ہوگیا ) الفاظ سے ہوتا ہے جو آپ نے مدرسہ احمدیہ کی طرف سے 5 مارچ1917ء کو دی گئی الوداعی پارٹی کے موقع پر فرمائے تھے۔آپ نے فرمایا: میں ولایت میں اس لئے نہیں جارہا کہ وہاں کے رہنے والوں کی کے فتنے نے جماعت احمدیہ میں تفرقہ وانتشار کی خطرناک فضا قائم کرنے کی کوشش تقلید کروں۔بلکہ اس لئے جا رہا ہوں کہ ان کو اپنی تقلید کراؤں“ کی۔غیر مبائع حضرات خلافت کے خلاف جگہ جگہ زہر پھیلانے میں مصروف تھے، خصوصاً ان علاقوں میں جو مرکز سے دور تھے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس زہر ناک پروپیگنڈہ کے تریاق کے لئے حضرت مفتی صاحب کو کئی جگہ بھیجا۔حضرت دوران سفر کا میابیاں مفتی صاحب نے کئی دور دراز علاقوں کے سفر کر کے خلافت کی اہمیت و برکات سے الفضل 10 مارچ 1917ء) آپ چونکہ دعوت الی اللہ کے لئے انگلستان روانہ ہورہے تھے۔آپ کے سینہ آگاہ کیا اور اس زہر کا بہترین تریاق کیا۔اس مقصد کی تکمیل کے ساتھ ساتھ آپ نے میں دعوت الی اللہ کا اس قدر جوش اور جذبہ تھا کہ دوران سفر بھی آپ نے مسافروں کو جگہ جگہ خوب دعوت الی اللہ کی۔سفرانگلستان خوب دعوت الی اللہ کی۔جس کے نتیجے میں کئی افراد سلسلہ احمدیت میں داخل ہوئے۔مثلا آپ کے جہاز پر سوار ہونے کے چوتھے دن ایک انگریز ( مؤمن ) ہو گیا جس کا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی شدید خواہش تھی کہ یورپ کے ظلمت کدے نام داؤ د رکھا گیا۔26 مارچ کو دو اشخاص سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔ان میں سے آسمانی نور سے جلد منور ہوں اور بلا د کفر میں خدائے واحد و یگانہ کی منادی کی جائے۔ایک پنجاب اور دوسرا بمبئی کے علاقے سے تعلق رکھتا تھا۔