حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 7 of 18

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 7

11 10 تا کہ وہاں حضرت صاحب کے کسی خادم کو لوٹا دے کر پانی اندر سے منگواؤں۔اتفاقاً رضائی اور ایک دھہ ارسال فرمایا اور فرمایا کہ رضائی محمود کی اور دھہ میرا ہے۔جو اندر سے حضرت صاحب تشریف لائے۔مجھے کھڑا دیکھ کر فرمایا۔آپ کو پانی چاہئے۔آپ پسند فرمائیں رکھ لیں اور اگر چاہیں تو دونوں رکھ لیں۔آپ نے رضائی رکھ لی اور میں نے عرض کی ہاں حضور۔حضور نے لوٹا میرے ہاتھ سے لے لیا۔اور فرمایا۔میں دھہ واپس بھیج دیا۔لا دیتا ہوں اور خود اندر سے پانی ڈال کر لے آئے اور مجھے عطا فرمایا۔مخدوم نے خدمت کا نمونہ دکھایا مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آیا ہوا تھا۔غالباً 1897ء یا 1898 ء کا واقعہ ہوگا۔مجھے حضرت صاحب نے ( بیت ) مبارک میں بٹھایا جو کہ اس خلافت اولی میں خدمات (سیرت المهدی حصہ دوم صفحہ 103 روایت نمبر 430) حضرت مفتی محمد صادق صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل کی بھی اُسی جذبہ، شوق اور ولولہ کے ساتھ اطاعت و وقت ایک چھوٹی سی جگہ تھی۔فرمایا کہ آپ بیٹھے میں آپ کے لئے کھانا لاتا ہوں۔یہ فرمانبرداری کرتے رہے جس شوق اور جذبہ سے مھدی دوران کی کیا کرتے تھے۔کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے۔میرا خیال تھا کہ کسی خادم کے ہاتھ کھانا بھیج دیں گے۔مگر چند منٹ کے بعد جبکہ کھڑ کی کھلی تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ اپنے ہاتھ سے سینی اٹھائے ہوئے میرے لئے کھانا لائے۔مجھے دیکھ کر فرمایا کہ آپ کھانا کھایئے میں پانی لاتا ہوں۔بے اختیار رقت سے میری آنکھوں سے آنسونکل آئے کہ جب خلافت اولیٰ کے دور بابرکت میں مفتی صاحب نے برصغیر کے طول وعرض میں اعلائے کلمۃ اللہ اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچانے کے لئے ہزاروں میل کا سفر کیا۔حضرت ہمارے مقتداء پیشوا ہو کر ہماری یہ خدمت کرتے ہیں تو ہمیں آپس میں ایک حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے احکام کے مطابق ہندوستان کے دور دراز علاقوں تک پھیلی ہوئی جماعت احمدیہ کے جلسوں پر انتہائی مدلل اور مؤثر تقاریر کیں۔روحانیت سے لبریز اور تاثیر سے پُر ان تقاریر میں آپ نے نہ صرف دوسرے کی کس قد ر خدمت کرنی چاہئے۔ایک دفعہ حضرت مفتی صاحب حضور علیہ السلام کی ملاقات کے لئے تشریف لائے۔سردیوں کے دن تھے اور آپ کے پاس اوڑھنے کے لئے کچھ نہ تھا۔آپ نے ہزار ہا احمدی احباب کی پیاس کو بجھایا بلکہ ہزارہا غیر احمدی احباب کو بھی احمدیت کا کہلا بھیجا کہ حضور رات سردی لگنے کا اندیشہ ہے۔حضور نے نہایت شفقت سے ایک پیغام انتہائی مؤثر اور دلکش رنگ میں پیش کیا۔