حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 96 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 96

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ بچوں کی وفات پر صبر پر تلقین 96 3 جون 1905ء حضرت مفتی صاحب کی لڑکی سعیدہ بیگم بعمر تین سال آٹھ ماہ بعارضہ اُمّ الصبیاں فوت ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بمع جماعت باغ میں جنازہ پڑھا اور فرمایا: اولاد جو پہلے مرتی ہے وہ فرط ہوتی ہے حضرت عائشہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تھی کہ جس کی کوئی اولاد نہیں مرتی وہ کیا کرے گا ؟ فرمایا میں اپنی اُمت کا فرط ہوں، آپ صبر کریں اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اس کے عوض میں لڑکا دے گا۔صبر تو خواہ مخواہ کرنا ہی پڑتا ہے۔لڑکیوں کے معاملات بھی مشکل ہوتے ہیں۔الخَیرُ فی مَا وَقَعَ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ڈاک کا انتظام ( ملفوظات جلد چہارم ص 291) 1905ء میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ڈاک کا مکمل انتظام حضرت مفتی صاحب کے سپرد ہو گیا۔اور پھر حضرت اقدس علیہ السلام کی زندگی کے آخری وقت تک اُن کے سپر درہا۔اُن دنوں ڈاک کا کوئی الگ دفتر نہیں ہوتا تھا۔حضرت مفتی صاحب کے بیان سے ڈاک آنے ، جواب لکھنے اور بھیجنے کا پورا نقشہ نظر کے سامنے آجاتا ہے۔تحریر فرماتے ہیں: ڈاکخانہ سے پوسٹ مین ڈاک براہ راست حضرت صاحب کے پاس لے جایا کرتا تھا۔حضور " کا کوئی خادم یا خادمہ پوسٹ مین کے آواز دینے سے دروازہ پر آکر ڈاک اندر لے جاتا تھا۔بعض دفعہ حضور علیہ السلام خود ہی تشریف لے آتے اور پوسٹ مین سے ڈاک لے جاتے۔تمام خطوط کھولتے ، پڑھتے بعض پر کچھ نوٹ کر دیتے کہ کیا جواب لکھا جائے۔بعض بغیر نوٹ کے میرے پاس بھیج دیتے اور بعض اپنے پاس رکھ