حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 95
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 95 آدمی یا چند آدمی ہیں جو ہمارے سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں اور صاف لفظوں میں اس کا اظہار کیا ہے ان کا نام پورا مع سکونت خوشخط اردو میں ابھی بھیج دیں ضرورت ہے۔“ بزرگانِ اُمت کی قبور کی زیارت (مکتوبات دسمبر 1904ء ،ذکر حبیب ص 351) 1905ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دہلی تشریف لے جانے کا ارادہ فرمایا تو آپ کے حکم اور اجازت سے چند خدام بھی ساتھ گئے حضرت مفتی صاحب کی طبیعت بیمار تھی اور چند روز بخار رہا تھا ، حضور نے فرمایا: ” چلے چلو تب ریلی آب و ہوا سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم ص 486) 23 اکتوبر کو دہلی پہنچے دوسرے روز صبح حضرت مفتی صاحب نے بعض احباب کی خواہش پر سیر دہلی کی اجازت چاہی تو حضور نے فرمایا لہو ولعب کے طور پر پھر نا درست نہیں یہ فضول بات ہے میں اس کو پسند نہیں کرتا۔ہاں یہاں اکثر اولیاء اللہ اور ا کا بر اُمت کے مزار ہیں ان پر جانے کا ہمارا بھی ارادہ ہے کہ ہو آئیں۔آپ نے مفتی صاحب کو ایسے بزرگان کی فہرست بنانے کا ارشاد فرمایا۔پھر مع خدام ان کی قبروں کی زیارت کی اس دوران زیارت قبور کے متعلق فرمایا: قبرستان میں ایک روحانیت ہوتی ہے اور صبح کا وقت زیارت قبور کے لئے ایک سنت ہے۔یہ ثواب کا کام ہے اور اس سے انسان کو اپنا مقام یاد آ جاتا ہے۔انسان اس دنیا میں مسافر ہے آج زمین پر ہے تو کل زمین کے نیچے ہے حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب انسان قبر پر جاوے تو کہے : السلام عليكم يا اهل القبور من المومنين والمسلمين و انا انشاء الله بكم للاحقون 66 ( بدر 31 اکتوبر 1905ء)