حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 97 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 97

حضرت مفتی محمد صادق عنی اللہ تعالیٰ عنہ لیتے اور خود دست مبارک سے اُن کے جوابات لکھتے۔ایسے خطوط عموماً سیٹھ عبدالرحمن صاحب مرحوم مدراسی کے ہوتے یا عبداللہ صاحب مرحوم سنوری کا خط یا بعض احمدیان کپورتھلہ کے خطوط جو پرانے مخلصین میں سے تھے۔ایسے خط بھی عموماً لفافہ میں بند کر کے پتہ لکھنے کے واسطے مجھے بھیج دیا کرتے تھے۔جب پہلے پہل ڈاک میرے سپرد ہوئی تو وہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم مغفور کے ایک دفعہ سیالکوٹ تشریف لے جانے کے وقت تھی۔جب میں نے خطوط کو دیکھا تو اکثر خطوط درخواست دُعا کے لئے تھے اور میں نہیں جانتا تھا کہ اس کا کیا جواب دوں۔اس واسطے میں نے اُن سب کی ایک فہرست بنائی اور ایک نقشہ بنا کر اس میں ہر شخص کا نام اور مقام اور مطلب درخواست دُعا درج کیا اور فہرست اندر بھیج دی مگر حضور نے وہ فہرست واپس نہ کی اور نہ اس کے متعلق کچھ فرمایا۔دوسرے دن میں نے پھر ویسی ہی ایک فہرست بنائی اور اندر بھیج دی۔وہ فہرست بھی اندر ہی رہی اور جواب کچھ نہ آیا۔تیسرے دن میں نے پھر بعد نما زبانی عرض کیا تب حضور نے فرمایا: ایسے اصحاب کو لکھ دیا کریں کہ دُعا کی گئی کیونکہ میں خط اپنے ہاتھ سے نہیں رکھتا کہ جب تک دُعا نہ کرلوں اور اب آپ فہرست بنا کر بھیجتے ہیں تو فہرست آگے رکھ کر پھر دُعا کر دیا کرتا ہوں اس طرح اب دو دفعہ دُعا ہو جاتی ہے۔“ 97 میں یہ سن کر بہت خوش ہوا کہ میری اس تجویز سے دوستوں کے واسطے دو بار دُعا ہو جاتی ہے اور میں نے اس سلسلہ کو جب تک ڈاک میرے پاس رہی جاری رکھا۔جب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب واپس تشریف لائے تو پھر ڈاک ان کے پاس جانے لگی لیکن ان کی وفات کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب کی تحریک پر ڈاک پھر میرے سپرد ہوئی تو پھر میں نے اس فہرست کا سلسلہ جاری کیا جو آخر تک جاری رہا۔۔۔۔۔جن خطوط پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے کچھ نوٹ نہیں ہوتا تھا اُن