حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 80 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 80

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 80 خیالات میں اور اول الذکر تو بہت ہی مشکل بلکہ قریب به محال ہے اور آخر الذکر ایسی آزادی ہے جو ہر ایک شخص خواہ سہل الحصول ہے۔آزادی اعمال کوئی بھی حاصل نہیں کر سکتا اور آزادی خیال گو یا انسانی میراث ہے ہر شخص اسے پا سکتا اور اس سے لطف اٹھا سکتا ہے۔کوئی آدمی آپ کو مجبور نہیں کر سکتا ایسی ہی حالت ہے چنانچہ قرآن مجید نے صاف طور پر فرمایا " لا إكراه في الدين “۔پس بلحاظ خیالات کے سب کے سب آزاد ہیں مگر اعمال یا اقوال کے لحاظ سے کوئی آدمی بھی غالباً آزاد مطلق نہیں ہوسکتا۔دوسری طرف ہر ایک شخص (خواہ کے باشد ) کچھ نہ کچھ کرنے کا پابند ہے اور ہر شخص کو کسی نہ کسی قانون کی پابندی لازمی ہے اور نجات اطاعت سے وابستہ ہے۔ان تمام امور پر یکجائی نظر کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کوئی شخص یہ استثنائے احدے بلحاظ خیالات یا من حیث الاقوال یا من حيث الا فعال آزاد خیال نہیں ہے بلکہ سب کے سب متبع ہیں۔لہذا انسانی بناوٹ اور فطرت حسب حال فرمانبردار کا نام موزوں ہے جو عربی لفظ مسلم کا ٹھیک ترجمہ ہے۔پس ہمیں بجائے کسی اور نام ولقب کے اپنے تئیں مسلم کہنا اور کہلانا چاہیے۔قرآن شریف نے سچ فرمایا سلما كُمُ الْمُسْلِمِينَ “ اس نے یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے اس قدر بحث تو نام کے متعلق تھی اب میں آزاد خیال لوگوں کے آغاز نشو ونما اور انجام پر نظر کرنا چاہتا ہوں۔آزاد خیال لوگوں کا مبدا اور باعث ہی بائبل ہے جو عیسائی پاسٹروں کے ہاتھ میں ہے نہ کچھ اور۔قطع نظر اس امر کے کہ آیا اس کے تراجم غلط ہیں یا صحیح اور موجودہ کتا بیں ناپاک ہیں یا خلاف اخلاق ، اس میں کوئی کلام نہیں کہ ان کا اتباع ہر شخص کو آزاد خیال بنا تا ہے۔اگر آزاد خیالی کوئی خطا ہے تو اس کی ذمہ دار عیسائیت ہے یعنی وہ عیسائیت کا جرم ہے یہ ایک گناہ ہے لیکن اس کے ذمہ دار اور موجب یورپین پاسٹر اور پادری ہیں۔دلیل و برہان کے اس زمانہ میں کون ایسا بیوقوف ہے جو کسی انسان خدا کا یقین رکھ سکتا ہے؟ یا اس بات کا معتقد ہو سکتا ہے کہ انسان خدا وہ جو سہ گوشہ ہے ایسا خدا جو مصلوب ہوا ؟ علی