حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 79 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 79

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 79 اور ہر طبقہ کے لوگ آسانی سے سیکھ لیں اور اس طرح سے روئے زمین پر ایک ایسی زبان رواج پکڑے جو کہ ہر ایک شخص ، خواہ کہیں کا رہنے والا ہو سمجھ لیوے۔یہ خبر پا کر مجھی مفتی محمد صادق صاحب نے اس کمیٹی کی طرف ایک خط لکھا جس کا خلاصہ مضمون یہ تھا کہ دنیا بھر میں ایک زبان کا ہونا محال ہے کیونکہ اختلاف السنہ اللہ تعالی کا ایک نشان ہے۔جس کا ذکر کتب مقدسہ میں ہے تاہم میں آپ کی سعی کو دیکھنا چاہتا ہوں آپ ابتدائی قواعد سے مجھے اطلاع دیں۔جن کے عوض میں آپ کو ایک بڑی تحریک کے متعلق کچھ چھپی ہوئی تحریر بھیجتا ہوں جو مشرق میں خدا کے حکم سے قائم ہوئی ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے ولایت سے آیا ہوا پال کا تھیوں کا مکتوب سن کر فرمایا: در اصل اب عیسویت سے دستبرداری دنیا میں شروع ہوگئی ہے اور اس مذہب کو جلا دینے والی آگ دنیا میں بھڑک اٹھی ہے آگ کا یہ دستور ہے کہ وہ اول ذراسی شروع ہو کر پھر آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے یہی حال اب عیسائیت کا ہو گا۔“ ( بدر یکم فروری 1905 ء ) فری تھنکروں کی کانگرس میں ایک احمدی 1904ء میں اٹلی کے فری تھنکرز کی ایک کانفرنس ہوئی تھی۔آپ نے اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک طویل مضمون ارسال فرمایا جو الحکم 30 نومبر 1904ء کے پرچے میں چھپا تھا: غلامی موجودہ زمانہ کی مہذب دنیا میں مفقود ہے اور ہم کوئی غلام نہیں پاتے ہیں بجز ان قیدیوں کے جو جنگی یا ملکی جیل خانوں میں رکھے جاتے ہیں اس طرح پر گو یا تمام لوگ آزاد ہیں با ایں ہمہ آزادی ایک نسبتی یا اضافی امر ہے۔ایک دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ لطف آزادی اٹھاتا ہے اور فی الحقیقت اس پشتِ زمین پر ایک بھی ایسا آدمی نہیں ہے جو کلیہ آزاد ہو۔کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی قانون وضابطہ کی پابندی سے زندگی بسر کرنا ضروری ہے خواہ وہ قانون ملکی ہو یا جنگی ، اخلاقی ہو یا تمدنی ،قومی ہو یا انسانی۔پھر آزادی تین امور میں ہو سکتی ہے یا نہیں ہوسکتی، یعنی اعمال، اقوال اور