حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 57
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 57 حضرت اقدس علیہ السلام کی خواہش پر آپ نے موٹے حروف کی انجیل خریدی اس کے الفاظ کاٹ کر ایک کاپی پر چسپاں کئے اور ان کے نیچے خوش خط حروف میں تلفظ اور معانی لکھے۔حضور نے اس طرز کو پسند فرمایا۔آپ نے حضرت اقدس علیہ السلام کی آسانی کے لئے ایک عبرانی قاعدہ بھی تصنیف کیا تھا۔(ذکر حبیب ص 44) محبت کا تو اک دریا رواں ہے حضرت مفتی صاحب کی حضرت اقدس علیہ السلام اور قادیان دارالامان کی محبت کا اندازہ لگانے کے لئے آپ کا ایک مکتوب پیش ہے اور اُس مکتوب سے پہلے حضرت محمد ظہور الدین اکمل صاحب کا ایک نوٹ جو اخبار بدر مورخہ 19 مارچ 1908ء میں شائع ہوا ہے پیش خدمت ہے۔یہ مکتوب آپ نے 1899 ء میں ڈاکٹر رحمت علی مرحوم کو افریقہ بھیجا تھا۔اکمل صاحب کا نوٹ : یہ وہ وقت تھا جب ہمارا صادق عثمانی دوست (ایڈیٹر بدر ) اپنے محبوب کے عشق میں سرگرداں تھا۔وہ اس پروانہ کی مانند تھا جو شمع کے گرد بڑی بے تابی سے اِدھر اُدھر پھرتا اور آخر پھر اس میں آکر اپنی ہستی کو مٹا دیتا ہے وہ اس بچہ کی مانند تھا جو بدر کامل کو دیکھ کر ہمک ہمک کر اُوپر اُٹھتا اور اُس تک پہنچتے میں مقدور بھر کوشش کرتا ہے۔یہ ابتدائی زمانہ بھی کیا ہی پر لذت زمانہ تھا۔ہمارا دوست جب کوئی موقع پاتا تو دیوانہ وار اُٹھ دوڑتا نہ رات دیکھتا نہ دن۔آخر عشق صادق نے اپنا رنگ دکھایا اور وہ قطرہ سمندر میں آکر مل گیا یا یوں کہیے کہ جس لڑی کا موتی تھا اُس میں پرو دیا گیا۔۔۔۔ناظرین مطلع رہیں کہ سب سے پہلے ڈائری لکھنے والا میرا صادق بھائی ہے: ہے۔یہ مبارک رسم انہیں پر صدق ہاتھوں سے پڑی ہے۔“ اس تمہید کے بعد حضرت مفتی صاحب کا ایک طویل مکتوب درج ہے۔جس کا آغاز اس طرح