حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 27
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ و, مہمانوں سے ملتے تھے۔یا اس کے دروازے پر میدان میں چار پائیوں پر بیٹھا کرتے تھے۔اس کے بعد بھی دو تین سال تک وہی مہمان خانہ رہا۔اس کے بعد شہر کی فصیل جب فروخت ہوئی تو اُس کو صاف کر کے اس پر مکانات بننے کا سلسلہ جاری رہا اور وہ جگہ بنائی گئی جہاں اب مہمان خانہ ہے۔پہلے اس میں حضرت خلیفہ امسیح اول رہا کرتے تھے۔جب حضرت خلیفہ المسیح اول نے دوسری طرف مکان بنالئے تو یہ مکان مہمانوں کے استعمال میں آنے لگا۔میں اس مہمان خانہ میں بھی مقیم رہا۔پھر جب مولوی محمد علی صاحب کے واسطے بیت المبارک کے متصل اپنے مکان کی تیسری منزل پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کمرہ بنوایا تو جب تک مولوی محمد علی صاحب کی شادی نہیں ہوئی مجھے بھی اُسی کمرے میں حضرت صاحب ٹھہرایا کرتے۔“ ذکر حبیب صفحہ 8 از حضرت مفتی محمد صادق صاحب مطبوعہ 1936ء) 313 صحابہ ء کرام میں آپ کا نمبر 69 ہے۔27 (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 ص 544) تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 452 پر آپ کی تاریخ بیعت 31 جنوری 1891ء درج ہے۔وہ قصیدہ میں کروں وصف مسیحا میں رقم “ بیعت کے بعد اپنی ملازمت پر واپس جموں گئے تو حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب نے حضرت اقدس علیہ السلام کے بارے میں چھوٹی چھوٹی تفصیل پوچھی اور بہت دلچسپی کا اظہار کیا جس سے آپ کے دل میں یہ تحریک ہوئی کہ دیگر احباب کو بھی اسی قدر دلچسپی ہوگی۔چنانچہ آپ کو بیگن لگ گئی کہ جو کچھ دیکھیں باریک بینی سے دیکھیں اور نوٹ کر لیں پھر تفصیل سے دوسروں کو آگاہ کریں۔چنانچہ آپ نے نوٹ لینے اور دور و نزدیک شہروں بلکہ ملکوں تک حالات لکھ کر بھیجنے شروع کر دیئے۔اسی شوق اور لگن نے بعد میں اخبار الحکم اور بدر میں ذکر حبیب کے سلسلوں کی طرف